جج پر ریفرنس فائل کیا، صدر نے بعد میں کہہ دیا غلطی تھی، وہ عدلیہ سے مذاق نہیں تھا؟ وزیراعلیٰ

سحر و افطار کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایک حاضر جج پر ریفرنس فائل کیا گیا جو چیف جسٹس بننے جارہا ہے، بعد میں صدر مملکت نے کہہ دیا کہ یہ ہماری غلطی تھی تو کیا وہ عدلیہ سے مذاق نہیں تھا؟

وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کا رواج ختم، عدالتی فیصلوں کا ٹرائل کیا جائے، خواجہ آصف

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زیادہ زور سے بولنے سے جھوٹ سچ نہیں ہوجا ئے گا، اپوزیشن والوں کو ہنسی آرہی ہے، انہوں نے ایسے ہی ہنستے ہنستے اپنی اسمبلیاں توڑ دیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ایوان میں کچھ دوستوں نے دھواں دار تقاریر کیں، ان کی تقاریر میں صرف دھواں ہی تھا کیونکہ جب جلن ہوتی ہے تو دھواں ہی اٹھتا ہے۔

انہوں نے کہا قرارداد میں کچھ اور بات ہے لیکن تنقید صرف حکومت پر ہو رہی ہے، میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس قرارداد کو سپورٹ کر رہے ہیں یا اس کی مخالفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا قرارداد میں تو اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کی بات ہے، کسی کے کہنے پر اسمبلی نہیں توڑی جا سکتی۔

سیاسی لوگ انصاف نہیں، من پسند فیصلے چاہتے ہیں، چیف جسٹس

وزیراعلیٰ نے کہا اپوزیشن والے اطمینان سے میری بات سن لیں، آہستہ آہستہ میری ساری باتیں مان جائیں گے، سندھ اسمبلی کا سیشن چل رہا ہے، جمعہ کو بھی اجلاس ہوگا، یہ بات غلط ہے کہ اچانک کسی وجہ سے اجلاس بلایا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا پیش کردہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی، انتخابات وقت پر ہوں گے اور بلاول بھٹو زرداری وزیر اعظم پاکستان بنیں گے۔

سپریم کورٹ کے 8 ججز ن لیگ کے نشانے پر ہیں، مریم نواز کیخلاف فوجداری مقدمہ کر رہے ہیں، فواد چودھری

اجلاس میں ایوان نے اسمبلی کی مقررہ مدت پوری کرنے کی قرار داد متفقہ رائے سے منظور کر لی جس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔


متعلقہ خبریں