مالکان اپنے پالتو جانوروں کو کورونا وائرس کا شکار کردیتے ہیں؟ تحقیق


ایمسٹرڈم: گھر میں پالے جانے والے کتے اور بلیاں حیرت انگیز طور پر اپنے مالکان سے عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف نیدر لینڈ کی یوٹریکٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹر ایلس بروئنز نے اپنی نئی تحقیق میں کیا ہے۔

بستر پر سونے والی بلیوں میں کورونا کے زیادہ خطرات، تحقیق

ان کی تحقیق کا موضوع تھا کہ کسی انسان سے کووڈ 19 پالتو جانوروں کو منتقل ہو سکتا ہے؟

خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر ایلس بروئنز کا کہنا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک پالتو جانور اپنے مالکان سے کووِڈ-19 کا شکار ہوا ہے لیکن خوش قسمتی سے جانور اس سے زیادہ بیمار نہیں پڑتے ہیں۔

انہوں ںے اس سلسلے میں 196 گھرانوں کے 156 کتوں اور 154 بلیوں کا مطالعہ و معائنہ کیا۔ جن گھرانوں کا معائنہ اور مطالعہ کیا گیا ان گھرانوں کے لوگ کووِڈ-19 میں مبتلا رہ چکے تھے۔

ڈاکٹر ایلس کی تحقیق کا موضوع رہنے والے گھرانوں میں سے تقریباً 17 فی صد جانوروں (31 بلیوں اور 23 کتوں) میں کووڈ-19 کی اینٹی باڈیز پائی گئی تھیں۔

کورونا وائرس: دنیا میں کیسز کی تعداد 18 کروڑ 38 لاکھ سے بڑھ گئی

جانوروں کے کرونا وائرس کے پی سی آر ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ 6 بلیاں اور 7 کتے کووِڈ-19 کا شکار تھے۔ یہ تعداد سروے میں شامل جانوروں کا 4.2 فی صد ہے لیکن مزید ٹیسٹوں کے نتائج سے یہ بھی پتہ چلا کہ جانورکرونا وائرس سے تیزی سے صحت یاب ہونے کے قابل تھے اور ان سے اسی گھر کے اندر موجود دیگر پالتو جانوروں میں یہ موذی وائرس منتقل نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹرایلس اپنی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ گھریلو پالتو جانوروں کے متاثر ہونے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ مالکان کا ان سے شفقت آمیزبرتاؤ ہوتا ہے، وہ ان کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں اور انہیں خود سے زیادہ قریب بھی رکھتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی میں ویٹرنری میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسرجیمز ووڈ کا کہنا ہے کہ ڈچ تحقیق سےایسے شواہد کو تقویت ملی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بلیوں اورکتوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مالکان سے وائرس کاشکار ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں کورونا دوبارہ سر اٹھانے لگا

پروفیسر ووڈ کا کہنا ہے کہ ڈچ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 20 فی صد پالتوجانور کرونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور وہ بالآخراس سے بالکل اسی طرح صحت یاب ہوجاتے ہیں جیسے زیادہ تر انسان تن درست ہو رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں