آہستہ بولیں اور کورونا سے بچیں، نئی تحقیق سامنے آ گئی


امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ دھیمے آواز میں بات کرنے سے بھی کورونا وائرس کے جراثیم کے پھیلؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تیز بولنے سے بڑی تعداد میں ذرات منہ سے خارج ہوتے ہیں جو فضا میں بڑی تعداد میں وائرس کے جراثیم کے پھیلاو کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ اسپتالوں اور ہجوم والی جگہوں پر کم اور آہستہ بولنے سے کورونا کو کم کیا جا سکتا ہے۔

کورونا وائرس چین میں رپورٹ ہونے سے پہلے وجود میں آچکا تھا، سائنسدان

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے انکشاف کیا تھا کہ کورونا وائرس چین میں رپورٹ ہونے سے پہلے وجود میں آچکا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا تجا کہ چین سے پہلے کئی مریضوں میں کورونا کی علامات دیکھی جا چکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں کورونا وائرس پھر بےقابو، نئی پابندیاں عائد

انہوں نے کہا کہ وائرس کی علامات پچھلے سال کرسمس سے بھی پہلے سامنے آچکی تھیں۔

ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں ہی ایسے مریضوں کو اسپتال میں لایا گیا جنہیں کھانسی اور پھیپھڑوں کی بیماری لاحق تھی اور یہ سلسلہ فروری تک چلتا رہا۔

اس دوران پچھلے پانچ برسوں کے مقابلے میں اسپتال کے نظام نے پچاس فیصد زیادہ مریضوں کو ریکارڈ کیا اور اس وقت ڈاکٹروں نے کوویڈ نائنٹین کی نشاندہی بھی کی تھی۔

سائنسدانوں نے کہا کہ لاس اینجلس میں دسمبر 2019 سے فروری 2020 کے دوران ایک ہزار کورونا کے مریض ہوسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں