پولیس کے سامنے دیا گیا بیان قابل قبول شواہد تسلیم نہیں ہوتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے نرس کیساتھ ملکر نوجوان کومبینہ طور پر قتل کرنے والےچارسدہ کے رہائشی  ملزم کی ضمانت منظور کر لی ہے ۔ 

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔

دوران سماعت سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ زاہد الرحمان نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کیا اور تفصیل بھی بتائی،پولیس نے چارسدہ میں ملزم سے گاڑی بھی ریکور کر لی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ پولیس کے سامنے دیا گیا بیان قابل قبول شواہد تسلیم نہیں ہوتا،کے پی پولیس کے کیا کہنے وہ چاہتی تو میری گاڑی  بھی ریکور کر لیتی۔ جو گاڑی ریکور کی اس کا قتل سے تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ شریک خاتون ملزمہ سے دو موبائل ریکور ہوئے، نرس کیساتھ ملکر ملزم نے مقتول کو زہر کا ٹیکہ لگایا، موبائل ریکارڈ کے مطابق ملزمان جائے وقوعہ پر موجود تھے،تاہم جائے وقوعہ سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی، ضمانت ہوئی تو ہر قاتل انجیکشن لگا کر واردات کرے گا۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ضمانت نہ دی تو پولیس واردات والے علاقہ میں موجود ہر بندے کو ملزم بنا لے گی۔

عدالت نے  ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے  ایک لاکھ  روپے کے مچلکے  جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

ضمانت سے متعلق ایک اور مقدمے میں چیف جسٹس پاکستان نے انتہائی اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کے مقدمے میں سزا کا فیصلہ کیسے کردیں؟

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ  نے کہا کہ جزا سزا کا فیصلہ ضمانت کے مقدمہ میں نہیں ہو سکتا، ضمانت کے مقدمہ میں جزا سزا کا فیصلہ ہونے لگا تو مرکزی کیس کا کیا بنے گا؟کسی جرم کی سزا جزا کا فیصلہ مرکزی مقدمہ میں ہوتا ہے۔

سجاد عرف شادا نامی ملزم کی ضمانت منسوخی کے لیے محمد زمان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کیلئے تجاویز طلب کر لیں


متعلقہ خبریں