کل کے مذاکرات میں تحریری مطالبات جمع کرائینگے ، حکومت سنجیدگی سے بیٹھے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں
ملزمان کو عدالت حاضر کرنا جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ، کیس کا فیصلہ ہونا چاہئے
محسن نقوی سے 26 نومبر سے قبل کسی قسم کا مذاکراتی عمل شروع نہیں ہوا تھا
مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہو گی ، امید ہے فریقین کھلے دل اور نیک نیتی کا مظاہرہ کریں گے
اُمید ہے مذاکراتی عمل میں فریقین مثبت کردار ادا کرینگے ، سول نافرمانی کی تحریک موخر کرنی چاہئے ، شیر افضل
حکومت نے مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
عمران خان سے ملاقات میں احتجاج کے معاملے پر مشاورت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی
اڈیالہ جیل کے باہر رہنماؤں کی گرفتاری کا واقعہ پہلا نہیں ، عدالت سے بھی ریلیف نہ ملے تو کیا کریں
ایک دوسرے کے راستے بہت بند کئے،مزید راستے بند نہ کریں، چیئرمین پی ٹی آئی
یہ آئینی ترامیم نہیں یہ آئین کی ریورسل کی ترامیم ہیں، ان ترامیم سے عدلیہ پر قدغن لگے گی، چیئرمین پی ٹی آئی
حکومت نے آج بھی ہم سے بل شیئر نہیں کیا،چیئرمین پی ٹی آئی
یہ جلسہ پر امن ہوگا، نہ لانگ مارچ ہوگا اورنہ دھرنا ہوگا،چیئرمین پی ٹی آئی
نئے قانون میں لکھا ہے کابینہ کے فیصلے کو استثنیٰ حاصل ہے،چیئرمین پی ٹی آئی
فوج اپنے ملازمین کیخلاف جو کارروائی کرنا چاہتی ہے کرے ، چیئرمین پی ٹی آئی
قومی اسمبلی کی کارروائی سے متعلق اسپیکر سے مختلف معاملات پر بات چیت ہوتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی







