ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا ہے کہ اس وقت معیشت کو درست کرنا ایک حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔
موجودہ حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاجی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مشترکہ اجلاس کل صبح گیارہ بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ آج جو بھارت نے کیا وہ ناقابل معافی ہے۔
رکن بلوچستان اسمبلی ثنا بلوچ نے کہا کہ حکومت فیصلے بند کمروں میں کرنے کے بجائے ایوان میں کرے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پارلیمان اور سڑکوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اجلاس کی صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور بزرگ سینیٹر راجہ ظفرالحق کریں گے۔
مریم نواز نے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے ساتھ عوام ہو ان کو شکست دینا مشکل ہے۔
عزت بچانے کے لئے اچھا ہے چیئرمین استعفی دیدیں ورنہ کل تو وہ جارہے ہیں، چیئرمین پی پی پی
شیری رحمان کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو عشائیہ دیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان اصول کے نام پر وصول کی سیاست کرتے ہیں اور ہمیشہ بمع اہل وعیال جمہوریت کے مزے لوٹتے ہیں۔
لاہور میں احتجاج کا انتظام سنبھالنے والے حزب اختلاف کے 46 سرگرم اراکین کی فہرست تیار کر لی گئی
مسلم لیگ نواز کی قیادت حزب اختلاف کی جماعتوں سے اس حوالے سے ریبر کمیٹی کے اجلاس میں بات کرے گی، ذرائع
اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا حزب اختلاف کی تحریک پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ…














