محکمہ موسمیات نے 18 جون سے ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے
ماہی گیروں کو سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے سے روک دیا گیا
سمندری طوفان سے پاکستان کے کسی بھی علاقے کو ابھی تک کوئی خطرہ نہیں۔
بارشو ں کے اسپل کا اختتام 15اگست تک ہوسکتاہے ، چیف میٹرولوجسٹ
شاہین، گلاب، قطرنیہ، اثنا، افشاں، مناحل، گلنار، یہ لڑکیوں کے نہیں بلکہ سمندری طوفانوں کے نام ہیں
طوفان گلاب کراچی سے 2 ہزار کلومیٹر کی دوری پر ہے۔
بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان ماہا شدت اختیار کر رہا ہے۔
طوفان کیار آج دوپہر کسی ساحل سے ٹکرائے بغیر ہی سمندرمیں ختم ہوجائے گا۔ محکمہ موسمیات
ایک ہی وقت میں تین طوفانوں کی موجودگی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ہے، ماہرین موسمیات
سردار سرفراز کے مطابق سمندری طوفان ’’کیار‘‘ کیٹیگری 5 سے کیٹیگری 4 میں مکمل تبدیل ہوگیا ہے
طوفان شدت اختیار کرگیا ہے اور کراچی کے جنوب مشرق میں 950 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔
بدین، ٹھٹھہ اور تھر پارکر میں تیز آندھی اور بارش کی صورت میں طوفان کے اثرات نظر آئیں گے۔
سمندری طوفان ’وایو‘کے باعث اندرون سندھ تیز ہواؤں کے ساتھ بارش،کراچی میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے
جزیرے استولا کو بلوچستان کا پرکشش ترین مقام کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
کراچی: پاک بحریہ کی مشق سی اسپارک 2018 کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں بحری جہاز شکن سے میزائلز داغے…












