رواں سال غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 380 ہو گئی۔
تھر پارکر کے اسپتالوں میں 40 سے زائد بچے اس وقت بھی زیر علاج ہیں۔
تھر پار کر میں رواں ماہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 60 ہو گئی۔
تھر پارکر میں رواں ماہ جاں بحق بچوں کی تعداد 49 ہو گئی۔
تھرپارکر میں رواں ماہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 46 ہو گئی۔
تھر پارکر میں رواں ماہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 42 ہو گئی۔
رواں سال تین سو اٹھتالیس بچے غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
مودی سرکار کے احکامات پر وادی چنار کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے ڈاکٹروں کے لیے باقاعدہ ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ مریضوں کا علاج نہ کریں۔
پنجاب میں پندرہ فیصد سے زائد بچے ماؤں کی غذائی قلت کے باعث پیدائش سے قبل ہی ضائع ہو جاتے ہیں ۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ادویات کی قلت ہے اور جو ادویات دستیاب ہیں وہ اس نوعیت کی نہیں کہ جلد اثر دکھائیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق مال نیوٹریشن اگر پندرہ فیصد سے بڑھ جائے تو ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے
چیف جسٹس پاکستان تھر میں سہولیات کا جائزہ لیں گے
یمن: جنگ سے تباہ حال یمن بچوں کی مقتل گاہ بن گیا ہے۔ ’سیو دی چلڈرن‘ نامی غیرسرکاری تنظیم کے…
کراچی: صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان…
کراچی: تھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز مٹھی میں غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث مزید چار بچے جاں بحق ہو…












