90 دن کی بجائے صرف 45 دن کے زر مبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں۔
فاٹا کا بجٹ 150 ارب روپے ہونا چاہے تھا، وفاقی حکومت نے فاٹا کے ترقیاتی بجٹ میں 54 ارب روپے کی کٹوتی کی۔
گزشتہ حکومتوں میں عوام کو مصنوعی جھلک دکھائی گئی لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا، وفاقی وزیر اطلاعات
اضافی گرانٹ سے فاٹا میں بے گھر افراد کی سپورٹ، بچوں کی صحت اور سروس ڈلیوری میں مدد ملے گی
وزیراعظم کی زیر صدارت کے پی اور انضمام شدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کا جائزہ ا جلاس
قبائلی اضلاع میں سنہرے دور کاآغازہونے جارہاہے،فاٹا کی قومی دھارے میں شمولیت قبائلی عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے ، اب فوج کو اندر بٹھانے کی کیا ضرورت ہے
بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لئے امیدواروں کی حتمی فہرستیں پرنٹنگ کارپوریشن کو بھجوا دی گئی ہیں
ے۔امیدوار9مئی سے11مئی تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔امیدواروں کے ناموں کی فہرست12 مئی کو جاری کی جائے گی۔