ڈبلیو ایچ او(WHO) نے بھارت میں تیار کردہ تین کھانسی کے سیرپس(cough syrup) سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے بھارت میں تیار کردہ تین کھانسی کے شربتوں میں خطرناک کیمیکل کی موجودگی کے بعد عالمی سطح پر ہیلتھ ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
ادارے نے رکن ممالک کو ہدایت کی ہے کہ اگر ان مصنوعات کا پتا لگے تو فوری طور پر رپورٹ کیا جائے۔
متاثرہ شربت
Coldrif (Sresan Pharmaceutical)
Respifresh TR (Rednex Pharmaceuticals)
ReLife (Shape Pharma)
رپورٹ میں بتایا گیا یہ شربت Diethylene Glycol نامی زہریلے کیمیکل سے آلودہ پائے گئے، جو انسانی جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ اور جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
پاک فوج کی ٹیم نے’ ’ ایکسرسائز کیمبرین پٹرول ‘‘ میں گولڈ میڈل جیت لیا
دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ یہ شربت بیرون ملک برآمد نہیں کیے گئے اور نہ ہی کسی غیر قانونی برآمد کے شواہد ملے۔امریکی ادارہ ایف ڈی اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ زہریلے کھانسی کے شربت امریکہ نہیں بھیجے گئے۔
بھارت میں گرفتاریاں
بھارت کے علاقے مدھیہ پردیش میں پولیس نے ایک دوا ساز کمپنی کے مالک کو حراست میں لے لیا ہے جس کا تیار کردہ کھانسی کا شربت پینے سے 17 بچوں کی موت ہوئی۔پولیس کے ایک سینیئر افسر نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو اس گرفتاری کی تصدیق کی۔
سریسن فارماسیوٹیکل مینوفیکچرر نامی اس کمپنی کے خلاف تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب پے در پے 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔ ابتدائی تجزیے کے مطابق کھانسی کے شربت میں ‘ڈائیتھیلین گلائکول’ نامی زہریلا کیمیکل مجاز حد سے 500 گنا زیادہ پایا گیا، جو ممکنہ طور پر ان اموات کا سبب بنا۔
بیوی اور شوہر میں سے جھگڑا کون شروع کرتا ہے؟نئی تحقیق سامنے آگئی
دوسری جانب بھارتی ریاست تلنگانہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر دو کھانسی کے شربتوں کے استعمال پر پابندی کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کی وجہ ان میں زہریلے کیمیکل کی موجودگی بتائی گئی ہے۔
