فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے صدور

فضائی حادثات

دنیا بھر میں فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے حکومتی عہدیداروں میں کئی ممالک کے صدور بھی شامل ہیں، ان میں پاکستانی سابق صدر ضیاء الحق، عراق کے سابق صدر عبدالسلام عارف اور برازیل کے نیورو ریموس کا نام قابلِ ذکر ہے۔

ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان میں گزشتہ روز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو شدید دھند کے باعث پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے حادثہ پیش آيا۔ حادثے کے نتیجے میں ایرانی صدر سمیت ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

کسی ملک کے صدر کا فضائی حادثے میں جاں بحق ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ 1940 سے اب تک 15 صدور ہیلی کاپٹر یا طیارہ حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں سے کچھ نامور صدور یہ ہیں۔

صدر پاکستان

پاکستان کے چھٹے صدر ضیاء الحق 17 اگست 1988 کو ہوائی جہاز کے حادثے کا اس وقت شکار ہوئے جب وہ بہاولپور میں امریکی ٹینک کے مظاہرے کا مشاہدہ کرنے کے بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔

طیارہ بہاولپور ایئرپورٹ سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا لیکن ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد کنٹرول ٹاور کا طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں ضیاء الحق سمیت طیارے میں سوار 29 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

صدر فلپائن

رامون میگسیسے جو فلپائن کے ساتویں صدر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے تاہم وہ اپنی مدت طیارہ حادثے کے باعث پوری نہ کرسکے۔ 17 مارچ 1957 کو میگسیسے سیبو سٹی سے منیلا کے لیے روانہ ہوئے لیکن اڑان بھرتے ہی طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔

بعد ازاں مقامی اخبارات نے یہ اطلاع دی کہ ہوائی جہاز سیبو میں ماؤنٹ مانونگگل پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 56 میں سے 36 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر برازیل

برازیل کے عبوری صدر نیریو راموس 16 جون 1958 کو کریٹیبا افونسو پینا کے ہوائی اڈے کے قریب کروزیرو ایئر لائن کے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

صدر عراق

13 اپریل 1966 کو عراق کے دوسرے صدر عبدالسلام عارف بصرہ کے ہوائی اڈے سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر عراقی فضائیہ کے قریب حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اس وقت کی رپورٹس کے مطابق عبدالسلام عارف کی موت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہوئی تھی۔ 

صدر ایکواڈور

24 مئی 1981 کو اس وقت کے صدر جیمی رولڈوس کا طیارہ ایکواڈور کے شہر لوجا کے سیلیکا کینٹن میں گواچاناما کے قصبے کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔ طیارے میں سوار افراد میں کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ صدر کے ساتھ ہلاک ہونے والوں میں خاتون اول مارتھا بوکرام، وزیر دفاع مارکو سبیا مارٹینز اور ان کی اہلیہ اور دونوں پائلٹ شامل تھے۔


متعلقہ خبریں