یکم ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

petrol

15 اگست سے اب تک ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے بین الاقوامی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر رواں ماہ کے آخر اور ستمبر کے آغاز میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اوگرا یکم ستمبر سے شروع ہونے والے مہینے میں آئندہ پندرہ دنوں کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 12روپے فی لیٹرجبکہ ڈیزل کی قیمت میں 14.83روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دے گی۔

پیٹرول اس وقت 290 روپے 45 پیسے فی لیٹرجبکہ ڈیزل 293 روپے 40 پیسے فی لیٹرفروخت ہو رہا ہے، دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 24 اگست سے اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں،بینچ مارک برینٹ خام تیل 16 اگست کو 82 ڈالر کے مقابلے میں 84 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شہری پھٹ پڑے

عرب لائٹ کا خام تیل جو پاکستان استعمال کرتا ہے، وہ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔پاکستان اپنی زیادہ تر ایندھن کی ضروریات مشرق وسطی سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرکے پورا کرتا ہے، اس لاگت کا حساب امریکی ڈالر میں کیا جاتا ہے۔

امریکی ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت نے پہلے ہی پاکستان کے لیے درآمد ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا اثر صارفین پر پڑے گا۔

واضح رہے کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ ہوئیں تو اربوں ڈالرز قرضہ خطرے میں پڑ جائے گا جس کے بعد عوام کو مہنگائی کے ایک ایسے طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے ان کی زندگیاں اجیرن ہو جائیں گی۔


متعلقہ خبریں