ریل سفر میں آتشزدگی کے واقعات، بڑے نقصان سے بچا ئو کیسے ممکن؟


27 اپریل کو کراچی سے لاہور جانے والی “کراچی ایکسپریس” خیر پور کے قریب پہنچی تو بوگی میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔

فوری طور پر ٹنڈو مستی خان سٹیشن کے پہلے تاریک بیاباں میں گاڑی کو رکوایا گیا۔ اسوقت لگ بھگ رات کے بارہ بجے تھے۔

فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی اور یوں پہلی مدد رات ایک بج کر پچاس منٹ پر پہنچی۔ چالیس منٹ کی تگ و دو کے بعد تقریبا رات کے ڈھائی بجے آگ پر قابو پایا گیا۔

بد قسمت حادثہ ایک خاتون اور تین بچوں سمیت سات افراد کا آخری سفر ثابت ہوا۔

پاکستان میں ریل کا سفر سستا ضرور ہے مگر کبھی کبھار یہ غیر محفوظ بھی بن جاتا ہے۔ ہر چند سال کے بعد ایک بڑا ریل حادثہ کئی خاندانوں کی نفسیات پر عمر بھر کے زخم چھوڑ جاتا ہے۔

گذشتہ دس سالوں میں پاکستان ریلویز کو بائیس چھوٹے بڑے حادثات پیش آئے جس میں تین سو تیس کے قریب افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔

انہی حادثات میں اکاسی افراد ایسے ہیں جو بوگیوں میں آگ لگنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔

ہر بار حادثات ہوتے ہیں، تحقیقات میں ذمہ داروں کا تعین کر کے معطلیاں اور سزائیں دی جاتی ہیں۔ پاکستان ریلویز نئے عزم کے ساتھ مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے میں مشغول ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں عام طور پر مسافر ریل گاڑی کی اکانومی کوچز میں سفر کرتے ہیں۔ سستی ہونے کے باعث ان بوگیوں میں گنجائش سے ذیادہ افراد عازم سفر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حادثے یا آتشزدگی کی صورت میں سب سے ذیادہ اکانومی کلاس کے مسافر ہی متاثر ہوتے ہیں۔

ہم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز لاہور سفیان ڈوگر نے ریل گاڑی کے مختلف حصوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ ریلویز کو تیز تر اصلاحات کے ایجنڈے پر لا رہے ہیں۔ چین سے نئی بوگیاں آئی ہیں جو جدید ترین آلات سے لیس ہیں۔ اکانومی کلاس کی ایک کوچ میں اٹھہتر مسافر سفر کرتے ہیں۔ آگ بجھانے کے چار آلات نصب کئے گئے ہیں۔

ریل سفر کے دوران حادثہ درپیش ہو تو ذرا سی سمجھداری اور چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز لاہور سفیان ڈوگر کا کہنا ہے کہ ریل گاڑی میں دوران سفر آگ لگ جائے تو مسافر گھبراہٹ میں دھکم پیل کے بجائے سمجھداری سے حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریل کی اکانومی کلاس کی بوگیوں میں بھی بنیادی حفاظتی فیچرز ہوتے ہیں۔ حادثے کا پتہ چلنے پر سب سے پہلے تو مسافروں کو چاہیے کہ صورتحال کو سمجھ کر اسی حساب سے عمل کریں۔

پریشانی یا ہیجان خیز کیفیت کا شکار نہ ہوں۔ فوری طور پر الارم چین کھینچ کر گاڑی کو روکیں۔ریلوے بوگی میں لائٹ، پنکھے اور سوئچ سمیت بجلی کی اشیاء چلانے کے لئے  الیکٹرک پینل بھی موجود ہوتا ہے  اسکے انتظام کی ذمہ داری ریلوے سٹاف ممبر کے سپرد ہوتی ہے اور عام طور پر یہ سٹاف ممبر بوگی میں موجود ہوتا ہے۔

آتشزدگی اور اسکے پھیلاؤ کی ایک وجہ ریل کوچ کے الیکٹرک سسٹم میں شارٹ سرکٹ کا ہونا بھی ہے۔ اگر فوری طور پر الیکٹرک پینل کو سوئچ آف کر دیا جائے تو آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

سٹاف ممبر موجود نہ ہونے کی صورت میں مسافر از خود سمجھداری سے پینل کو آف کر سکتے ہیں۔سفیان ڈوگر نے کہا کہ آتشزدگی کے موقع پر مسافر ایک کوچ سے دوسری میں چلے جائیں۔

اپنے سامان کی فکر میں دھکم پیل کے بجائے انسانی زندگی کی قدر کریں۔ قطار بنا کر اور ایک دوسرے کے لئے جگہ بنا کر دوسری بوگی میں منتقل ہوں تو نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ کچھ مسافر گھبرا کر چلتی ٹرین سے چھلانگ لگاتے ہیں جس سے بچنے کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں، مسافر کوشش کریں کہ چلتی ٹرین سے باہر ہرگز چھلانگ نہ لگائیں۔

ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز لاہور سفیان ڈوگر نے کہا کہ مسافروں کو دوران سفر آتشزدگی جیسے واقعات سے نمٹنے کی تربیت دینے کے لئے پاکستان ریلویز کی جانب سے آگہی مہم اور تربیتی مشقوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ریلویز ڈویژن سطح پر ہر جگہ مسافروں کو بنیادی ٹریننگ دے گا۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی آگہی مہم چلائی جائے گی تاکہ ذیادہ سے ذیدہ شہریوں کو محفوظ ریل سفر کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔

ترجمان ریلویز بابر رضا نے ہم نیوز کو بتایا کہ پاکستان ریلویز محدود انفراسٹرکچر کے باوجود عوام الناس کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

سیلاب کے دوران پاکستان ریلویز کو سوا پانچ ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا، اسکے باوجود پاکستان ریلوے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا ہے۔

سیلاب کے دوران معطل ہونے والی کئی ٹرینوں بالخصوص شالیمار ایکسپریس کو ٹریک پر رواں دواں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کو ملازمین کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔

ایک محتاظ اندازے کے مطابق پچانوے ہزار کے قریب ملازمین میں سے تقریبا پینسٹھ ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں اور پاکستان ریلویز کی آمدنی کا تقریبا 67 فیصد حصہ تنخواہوں اور پنشنز کی نذر ہو جاتا ہے۔

محکمہ ریلویز کے ترقیاتی کاموں کے لئے بہت محدود وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ آج بھی پاکستان ریلویز کا سفر دیگر ٹرانسپورٹ سروسز کی نسبت بہت سستا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا پاکستان ریلویز پر اعتماد ہے اور سفر کے لئے ریلویز پر اعتماد کرتے ہیں۔

ترجمان ریلویز بابر رضا نے مزید کہا کہ حادثات پر ہمیں بھی افسوس ہوتا ہے اور یہ حادثات نہیں ہونے چاہیے۔ ریلویز کے تحت فیڈرل انسپکٹر ریلویز کی سربراہی میں ایک علیحدہ محکمہ ہر حادثے کی جامع اور شفاف تحقیقات کرتا ہے اور ذمہ داران کے خلاف لازمی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ ہر حادثے کے بعد حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں تاکہ مستقبل میں ان سے بچا جا سکے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں