نواز شریف کے لندن پہنچنے کے بعد کوئی رپورٹ نہیں ملی، یاسمین راشد

فائل فوٹو


لاہور: وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لندن پہنچنے کے بعد ہمیں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کوئی رپورٹ نہیں ملی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معائنے کے لیے دس افراد کا بورڈ تھا اور مجھے اپنے ڈاکٹرز پر مکمل یقین ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے  کہا کہ نواز شریف کا جو علاج ہم نے کیا اس کا اثر 6 سے 8 ہفتوں میں آنا تھا، ہمارے علاج سے لندن پہنچنے تک نواز شریف کی حالت بہتر ہوگئی۔۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک دفعہ پھر وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو برطانوی حکومت کی مدد سے واپس لانا ہے، وزیر اعظم

اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر دوبارہ پاکستانی ہائی کمیشن کا نمائندہ وارنٹس کی تعمیل کے لیے گیا تھا لیکن وہاں موجود شخص نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے برطانیہ میں قونصل اتاشی کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی ختم کرنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ قونصل اتاشی کا بیان ریکارڈ کر کے آگے بڑھیں گے۔

دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئے کہ اس تمام طریقہ کار کو مکمل کرنے کی وجہ ہے۔ کل ملزم واپس وطن آ کر یہ نہ کہے کہ طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا۔ ہم نے نواز شریف کو مکمل موقع دیا اور اس کے بعد اپیلوں کو سن کر فیصلہ کریں گے۔


متعلقہ خبریں