کورونا از خود نوٹس: پنجاب نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

مخصوص نشستیں

اسلام آباد: کورونا از خود نوٹس کیس میں پنجاب حکومت نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب بھرمیں نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 46 کروڑ 80 لاکھ سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ رقم میں سے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے محکمہ زراعت کے لیے مختص کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی۔ ملتان میں ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے 706ملین روپے مختص کیے گئے۔

پنجاب حکومت کی رپورٹ کے مطابق کوروناکے لیے ادویات کی فہرست ڈریپ کی گائیڈ لائنزکے مطابق مرتب کی۔ پنجاب میں ادویات کی کمی نہیں ہے، ادیات کی کمی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ادویات کی کمی کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے میکنزم تیار ہے۔ آکسیجن اور دیگر ادویات کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کام کرنے والے سینیٹری ورکرز کو 30جون تک تنخواہیں ادا کردی گئی ہیں۔

جمع شدہ رپورٹ کے مطابق مون سون موسم کے لیے پی ڈی ایم اے نے حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ فلڈ کنٹرول روم کے قیام سمیت سیلابی بندوں کا معائنہ حفاظتی اقدامات میں شامل ہے۔ فیصل آباد کے علاقے رضا آباد سے متعلق تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ 26 جون کو سپریم کورٹ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ منافع خوروں نے کورونا کے مریضوں کی ادویات ذخیرہ کرلی ہیں۔ ادویات کو مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔اسی طرح کورونا مریضوں کیلئے گیس سلنڈر بھی مہنگے فروخت کیے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: این ڈی ایم اربوں روپے ادھر اُدھر خرچ کررہا ہے، چیف جسٹس

عدالت نے تحریری فیصلے مِن کہا تھا کہ اس غیرقانونی اقدام کے خلاف وفاقی اور صوبائی سطح پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کورونا سے بچاو کے حفاظتی سامان مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے ادویات، آکسیجن سلنڈر سمیت تمام آلات مہنگے فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کردی تھی۔ عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق تمام طبی آلات، ادویات مناسب قیمت پریقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

عدالتی فیصلے میں کورونا وائرس سے متعلق طبی آلات اور ادویات کی ترسیل بھی یقینی بنانے کا حکم دے دیا تھا۔

عدالت نے حکم دے دیا تھا کہ ڈریپ امریکہ اور یورپ میں رجسٹرڈ ادویات کی پاکستان میں جلد رجسٹریشن یقینی بنائے۔ عدالت نے مقامی طور پر کورونا سے نمٹنے والی ادویات کی بھی جلد رجسٹریشن کی ہدایت کردی۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے رجسٹریشن کے عمل سے آئندہ سماعت پر ڈریپ سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ کورونا وائرس اور یکسیاں پالیسی بنانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے سندھ حکومت کو مہنگی گاڑیاں خریدنے سے روک دیا۔


متعلقہ خبریں