سزائے موت پانے والے7 ملزمان کو 10سال قید

سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے 7  مجرمان کی سزا کو 10 سال قید میں تبدیل کردیا۔ 

چیف جسٹس آصف سعد کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی پنچ  نےاز خود نوٹس کیس میں  سیالکوٹ  میں 2  بھائیوں  کے قتل  میں  سزا پانے والے مجرمان کی اپیل پر سماعت کی۔

عدالت نے عمرقید کی سزا پانے والے 5 ملزمان کی سزا کو بھی 10 سال قید میں تبدیل کردیا۔  13  میں  سے 12   مجرمان نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ  سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 2001 میں سیالکوٹ میں دو بھائیوں منیب اور مغیث  کے قتل کے واقع کا از خود نوٹس لیا تھا۔

 سیالکوٹ کے 2 بھائیوں  کےقتل کیس میں   ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ  نے 7 ملزمان کو سزائے موت جبکہ 6 ملزمان کوعمر قید کی سزا سنائی تھی

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  سیالکوٹ کے 2 بھائیوں  کے قتل  کیس  میں دو کہانیاں بنائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2010 میں دو افراد قتل اور دو زخمی  ہوئے اور  پولیس نے موقع  پر جا کر ایف آئی آر درج کی. پولیس نے موقع پر چار زخمی کے نام ایف آئی آر میں درج کیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چار زخمیوں میں سے دو زخمی مر گئے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر از خود نوٹس لیا. آصف سعد کھوسہ نے کہا کہ پانچ  دن بعد دوسری ایف آئی آر دج ہوئی جس میں دو قتل ہونے والے اور زخمیوں کے نام ہی نہیں.

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسی کہانی بنائی گئی ہے، یہ نقصانات ہوتے ہیں جب از خود نوٹس لیا جائے. جب سو موٹو لیا گیا پهر دوسری ایف آئی آر درج ہوئی. پهر آپ سب کہتے ہیں سپریم کورٹ نوٹس لے نوٹس لے۔ سپریم کورٹ نوٹس لے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: نجی اسکولوں کی فیس میں 2017 کے بعد کیا جانے والا اضافہ کالعدم

چیف جسٹس کا مجرمان کے  وکیل سے استفسار کیا کہ یہ سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا تها یا آپ نے درخواست دی تهی. وکیل نے جواب دیا سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا تها. اس پر چیف جسٹس نے پوچھا پهر مدعی کون ہوا آپ یا سپریم کورٹ؟  چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ وہاں موجود ہی نہیں تهی تو پهر اسے کیسے پتہ ہو سکتا کہ واقعے میں کیا ہوا؟

درایں اثناء  چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ  نے 7 افراد کے  قتل کے مجرم علی محمد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تهی۔

جڑاں والا فیصل آباد میں مجرم علی محمد نے ساتهیوں سمیت پانچ خواتین سمیت 7 افراد کو قتل کر دیا تها۔

ویڈیو لنک کے ذریعے وکلاء نے لاہور رجسٹری سے دلائل دیے۔ وکیل مقتول نے کہا قتل ہونے والوں میں مہم علی، غلام فاطمہ،رابیہ بی بی،رانی اور نسرت بی بی شامل  تھے.

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں علی محمد کے علاوہ 14 اور لوگ بهی تهے۔ مجرم  کے بهائی یعقوب کو اس کیس میں پهانسی ہو چکی ہے۔ یہ اتنے ظالم لوگ ہیں کہ خواتین کے بیچهے بهاگ بهاگ کر انهیں قتل کیا گیا.

چیف جسٹس نے جب ان سے پوچھا  کیا یہ بات درست ہے کہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ان چار ملزمان میں علی محمد کا نام نہیں ہے. وکیل مقتول نے جواب دیا یہ بات درست ہے جے آئی ٹی نے علی محمد کا نام نہیں دیا کیوں کہ یہ شامل تفتیش نہیں تها۔

 


متعلقہ خبریں