سندھ کابینہ نے 4ہزار 693 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی منظوری دیدی


کراچی: وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں آج اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ 

سندھ کابینہ کو بتایاگیا کہ سندھ حکومت کے پاس سوشل ویلفیئر یا انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ میں 10592 این جی اوز/ این پی اوز (نان پروفٹ آرگنائزیشن) رجسٹرڈ ہیں۔ این جی اوز کے دیئے گئے نوٹس اور وارننگ کا صرف 7414 این جی اوز / این پی او زنے جواب دیا ہے۔

صوبائی کابینہ نے جواب نہ دینے والی این جی اوز / این پی اوز  کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی منظوری دے دی۔ اس طرح  جواب نہ دینے والی 4ہزار 693 این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی ۔

وزیر اعلی سندھ نے کابینہ کو بتایا کہ انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ کے پاس 15000 این جی اوز / این پی اوز رجسٹر ہیں جن میں زیادہ تر جواب نہیں دے رہیں۔ اُن کی منسوخی کا عمل انڈسٹریز نے بھی شروع کیا ہوا ہے۔

کابینہ اجلاس  میں سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 میں ترمیم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس اہم ترمیم کا مقصد گاڑیوں کےلیے رجسٹریشن بُک جاری کرنے کے بجائے ایم وی آر اسمارٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اسمارٹ کارڈ میں سیکوریٹی فیچرز ہوں گے۔ کابینہ نے اس اہم منصوبے کی  منظوری دے دی ہے۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق اسمارٹ کارڈ کی فیس 750 روپے ہوگی جب کہ ڈپلیکیٹ کارڈ  یعنی کارڈ گم ہونے کی صورت میں دوبارہ کارڈ کے اجراء کی فیس 800 روپے ہو گی۔  گاڑی کی رجسٹریشن بُک کی فیس 1000 روپے ہوگی۔

سندھ کابینہ نے شہر قائد کی اہم  جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق مندر، چرچ اور گردوارہ پر سی سی ٹی وی  کیمرے لگائے جائیں گے۔

کابینہ نے این آر ٹی سی کو کنٹریکٹ دینے کے لیے سیپراکے رولز میں رعایت کی منظوری  بھی دے دی ہے۔ صوبائی محتسب کے ایکٹ 1991 میں ترمیم بھی منظورکرلی گئی ہے۔ اس ترمیم کے تحت صوبائی محتسب کی تقرری وزیر اعلیٰ کریں گے۔ اس سے قبل یہ تقرری گورنر سندھ کرتے تھے۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی صوبائی محتسب کی تقرری وزیراعلیٰ کرتا ہے۔ سندھ کابینہ نے پراسیکیوٹر جنرل کی منظوری دیتے ہوئےایڈووکیٹ فیاض شاہ کو پراسیکیوٹر مقرر کردیا گیاہے۔

سندھ کابینہ نے سندھ مائننگ کنسیشن رولز 2002 میں ترمیم کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ترمیم کے تحت لائسنسنگ اتھارٹی ڈی جی مائنز اینڈ منرل کو بنایا گیا اور
اپیلیٹ اتھارٹی سیکریٹری کو بنا گیا ہے۔

کابینہ نے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سے انسپکٹر آف فشریز کے اختیارات بھی  واپس لے لئے۔

سندھ کابینہ نے چیف انفارمیشن کمشنر اور 2 انفارمیشن کمشنرز کے ٹرمز اینڈ کنڈیشن منظور کرلیے۔

سندھ کابینہ نے گرین لائن کو سرجانی ٹائون اور نمائش کے پراجیکٹ بی آر ٹی ایس کے لیے مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب محکمہ بلدیات کےقانون میں ترمیم ہوگی پھر سرجانی ٹائون پلاٹ کنورٹ ہو جائے گا۔

کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں کلسٹر بم کے استعمال پر بھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈیا کی کھلی دہشت گردی ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو انڈیا پر وار کرائم کا کیس بنتا ہے ۔ انڈیا کس طرح مذہب، باؤنڈری اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کشمیر ی خواتین ، بوڑھوں اور بچوں کا قتلِ عام کرتا ہے ،اقوام متحدہ اس کا نوٹس لے۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں پنجاب کے برابر کرنے کی منظوری


متعلقہ خبریں