ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، وزیر پٹرولیم

فوٹو: فائل


ٹیکسلا: وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ تعلیم کی طرح پیٹرولیم کی صنعت کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

غلام سرور خان نے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے ہی قاصر ہیں جب کہ ڈھائی کروڑ میٹرک اور انٹر تک پڑھنے کے بعد تعلیم ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کے مطابق نوکریاں نہیں ملتی ہیں اور بچوں کو پڑھا لکھا کر کسی قابل بناتے ہیں تو وہ امریکہ اور برطانیہ جا کر اپنی خدمات انجام دینے لگ جاتے ہیں۔

غلام سرور خان نے کہا کہ ہم نے ملک میں یکساں تعلیمی نصاب کے لیے ٹاسک فورس بنائی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل لگتا ہے لیکن ہمارے حکومت نے اس کے لیے اقدام اٹھائے ہیں۔ ہم دنیا کے تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں اور اس وقت یونیورسٹیاں ہماری ضرورت ہیں جب کہ تعلیم مسلم ممالک کی ترجیح ہی نہیں رہی ہے۔

وزیر پٹرولیم نے اعلان کیا کہ ٹیکسلا میں بچیوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اسی مالی سال میں بنائیں گے اور جن بچیوں کو میڈیکل کالج میں داخلہ نہ ملے انہیں نرسنگ کے شعبے میں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئی ڈرلنگ نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے 17 ارب روپے گیس اور پٹرول کی درآمد پر لگ جاتے ہیں۔ جس میں سے ساڑھے 12 ارب روپے پٹرولیم مصنوعات اور ساڑھے چار ارب روپے گیس کی درآمد پر لگ جاتے ہیں۔


متعلقہ خبریں