شہید بچوں کے والدین آج بھی ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور اپنا غم بانٹتے ہیں
16 دسمبر 2014 ء کو سفاک دہشتگردوں نے اے پی ایس کی دیواروں کو معصوموں کے خون سے رنگ دیا تھا
دو سال سے انتظار کر رہے ہیں ، کیس کی تاریخ نہیں لگ رہی
دہشتگردی کےخلاف جنگ ثابت قدمی سے جاری رہے گی، وزیراعظم
قوم دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے آج بھی پرعزم ہے
درندہ صفت حملہ آوروں نے بچوں اور اساتذہ سمیت 149 افراد کو شہید کیا
وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدالتی حکم کی تعمیل کی
بنیادی حقوق کا نفاذ نہ ہو تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے، آصف سعید کھوسہ
16 دسمبر 2014 کو سفاک دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے 132 معصوم بچوں سمیت149 افراد کو بے دردی سےشہید کر دیا تھا ۔
اسلام آباد: فوجی عدالتوں کے لیے دی گئی دوسری آئینی مدت 30مارچ کو مکمل ہوگئی ہے۔ فوجی عدالتوں کو تیسری…
سربراہ مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور بے انتہا معاشی نقصانات اٹھائے، اگر کوئی موردِ الزام ٹھہراتا ہے تو ان پر واضح ہو کہ نقصانات کے باوجود ہم ملکی، علاقائی اور عالمی امن کے لئے پرعزم ہیں۔










