موسلادھار بارش نے گوادر میں سیلابی صورتحال پیدا کر دی جس سے کئی علاقے زیرآب آگئے، چیئرمین ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی
وزیر اعظم نے قمبر بائی پاس کےمقام پر ریلیف کیمپ کا دورہ کیااور سہولیات کا جائزہ لیا
سیلاب متاثرین میں 5 ہزار 487 راشن پیک اور ایک ہزار 200 سے زائد خیمے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
متاثرین سیلاب کو پاک فوج کے جوانوں نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
پاک فضائیہ نے 41 خیمے اور 12 ہزار کلو گرام بنیادی اشیائے خوردونوش ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیں
کسی جگہ امدادی سرگرمیاں شروع ہو سکی ہیں تو کہیں متاثرین تاحال امداد کے منتظر ہیں، پاک فوج امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل
مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپ بھی قائم کر دیئے گئے ہیں، آئی ایس پی آر
بلوچستان کے بیشتر علاقوں بالخصوص لسبیلہ میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا، آئی ایس پی آر
وزیر اعلیٰ نے امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ لی
کراچی، حیدرآباد، بدین، اور دادو کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کے جوان امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
پاک فوج کی جانب سے کراچی کے نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے۔
سیلاب سے متاثرہ افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، آئی ایس پی آر
عوام میں تقسیم کیا جانے والا امدادی سامان پاک فوج کی تنخواہوں کے فنڈ سے خریدا گیا ہے۔
چترال میں سیلاب سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں جن کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے
غیر ضروری کالز کرنے والوں کیخلاف ریسکیو1122 ایکٹ کے سیکشن 26 اور 27 کے تحت کارروائی بھی کی جائے گی













