ملک میں معیشت کی بحالی کے حوالے سے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
پاکستان اپنے آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کی آخری کوشش کر رہا ہے
پلان بی اور سی سوچنا نہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں ہی جانا ہو گا، سابق وفاقی وزیر خزانہ کا انتباہ
پاکستان کو فوری طور پر نئے آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانا ہوگا۔
امریکہ میں شرح سود میں اضافے کی وجہ سے عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہے، آئی ایم ایف
پروگرام کے تحت 2 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کا قرض اب بھی باقی ہے۔
جون کے بعد پاکستان کے قرض ادائیگی کے فنانسنگ آپشن غیر یقینی ہیں
امید ہے پاکستان آئی ایم ایف کی مالی اعانت سے چلنے والا اپنا جاری پروگرام مکمل کر لے گا۔
یہ سلسلہ بڑھ کر امریکہ کے بعد ایشیا اور یورپ کی منڈیوں تک میں بھی پھیل سکتا ہے، اقتصادی ماہرین کے خدشات
حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو عمران خان کے خلاف کارروائی کرے۔
امریکہ کے قرضے 31.4 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام ایسے مکمل کریں گے کہ عوام کو یرغمال نہ بنایا جائے
انتخابات مردم شماری کے بعد ہی ہوں گے جس کیلئے حکومت فنڈز جاری کر چکی ہے۔
سابقہ دور معیشت کے حوالے سے ملک کا سیاہ ترین دور تھا۔
،پاکستان 27 ارب ڈالر کے دوطرفہ قرضوں کو ری شیڈول کرانا چاہتا ہے۔











