• LIVE
    TUE JUL 21 2026 | 09:56 PM

    صدر ٹرمپ کا ایران، حوثیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سخت مؤقف

    امریکہ لبنانی عوام کے ساتھ احترام اور تعاون کا رویہ برقرار رکھے گا، امریکی صدر
    صدر ٹرمپ کا ایران، حوثیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر سخت مؤقف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لبنان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور واشنگٹن لبنان کی مدد جاری رکھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ لبنان کئی دہائیوں سے مشکلات اور حملوں کا سامنا کرتا رہا ہے، تاہم امریکہ لبنانی عوام کے ساتھ احترام اور تعاون کا رویہ برقرار رکھے گا۔

    سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے اور کوئی بھی اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکتا۔

    ایران سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ملاقات کے لیے بے چین ہے اور مذاکرات چاہتا ہے لیکن اس وقت امریکہ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نتیجہ خیز بات چیت ممکن نہ ہو، واشنگٹن تہران سے ملاقات نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور اسے اس حد تک کمزور کر رہا ہے جس کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی تنصیبات پر کارروائیاں جاری رہیں گی کیونکہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے ہم ایران سے ابھی نہیں نکلیں گے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اردن پر حملہ بھی کیا گیا جبکہ یہ بھی کہا کہ اگر لبنانی صدر جوزف عون چاہیں تو وہ حزب اللہ سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انہوں نے امریکہ کی عسکری طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار اور دفاعی نظام موجود ہیں۔

    مذاکرات مثبت رہے لیکن امریکا نے معاہدہ توڑا، ایرانی صدر

    وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ کے وینزویلا کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ وہاں سے بڑی مقدار میں تیل حاصل کر رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ بہت جلد ایران کے پکیکس ماؤنٹین کے علاقے کو نشانہ بنائے گا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  • TUE JUL 21 2026 | 06:14 PM

    مذاکرات مثبت رہے لیکن امریکا نے معاہدہ توڑا، ایرانی صدر

    بنیادی مؤقف تیل کی برآمدات اور دیگر اہم امور کیلئے آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا
    مذاکرات مثبت رہے لیکن امریکا نے معاہدہ توڑا، ایرانی صدر

     تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات توقعات سے کہیں زیادہ مثبت رہے تاہم امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ رابطہ اور تعاون دن بدن بڑھ رہا ہے۔ اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں توقعات سے کہیں زیادہ مثبت رہے۔

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہم قدم بہ قدم آگے بڑھے۔ بنیادی مؤقف تیل کی برآمدات اور دیگر اہم امور کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ تمام امور میں پیشرفت کے باوجود امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ جبکہ تمام فیصلے سپریم لیڈر کے احکامات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے اپنی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کے زخم آئے۔ زخمی ہونے والوں میں سے 96 فیصد فوجی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

    یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی

    اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔

  • TUE JUL 21 2026 | 09:50 AM

    ایران جنگ میں 2 ہفتوں کے دوران 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ، پینٹاگون

    زخمی ہونے والوں میں سے 96 فیصد فوجی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ، ترجمان شان پارنیل
    ایران جنگ میں 2 ہفتوں کے دوران 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ، پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔

    پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کے زخم آئے۔ زخمی ہونے والوں میں سے 96 فیصد فوجی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

    یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔

    اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    امریکا کی ایران پر پھر بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ 

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضاء کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    امریکا ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف پہلے ہی کر چکا، ایک امریکی فوجی لاپتہ ہے۔ گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کو کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔

    اس سے پہلے ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو گیا تھا جبکہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

     

     

  • TUE JUL 21 2026 | 08:51 AM

    امریکا کی ایران پر پھر بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ 

    کویت میں امریکی ہمارز میزائل سسٹمز اور بحرین کے شہر محرق میں امریکی ریڈار ، فضائی دفاعی نظام پر حملے کئے ، پاسداران انقلاب
    امریکا کی ایران پر پھر بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ 

    امریکی فوج نے مسلسل دسویں رات بھی ایران کے کئی شہروں پر فضائی حملے کئے جس میں میزائل ، ڈرون لانچنگ مقامات، اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف مزید مرحلہ وار حملے مکمل کر لیے۔ امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔

    سینٹکام نے کہا کہ اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بدستور جاری ہے۔ مئی کے آغاز سے اب تک سینٹکام کی فورسز نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی ہے۔

    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    سینٹکام نے کہا کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز سے آزادانہ اور کھلے عام گزرنے والے شہری ملاحوں کے خلاف بلاجواز جارحیت پر ایران کو جواب دہ بنانے کے لیے بدستور پوری طرح تیار اور مستعد ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے کہا کہ بحرین کے شہر محرق میں امریکی ریڈار اور فضائی دفاعی نظام جبکہ شہر رفاع میں نصب امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔

    پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ کویت میں امریکی ریڈار، مواصلاتی نظام اور سیٹلائٹ تنصیبات کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ کویت کے علی السالم ائیربیس پر موجود ایم کیو 9 ڈرون ہینگر اور کویت کے احمد الجابر ائیربیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی ٹارگٹ کیا۔

    پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ کویت میں واقع امریکی فوجی کیمپ عریفجان میں موجود امریکی ہمارز میزائل سسٹمز کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

     

     

  • MON JUL 20 2026 | 05:54 PM

    ’10 روزہ جنگ بندی کی تجویز’، ایران کی ثالثوں سے پیغامات موصول ہونے کی تصدیق

    عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں، ایران
    ’10 روزہ جنگ بندی کی تجویز’، ایران کی ثالثوں سے پیغامات موصول ہونے کی تصدیق

    ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثوں نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے۔

    یہ دعویٰ خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ معلومات ایک “سینئر ایرانی عہدیدار” نے فراہم کی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کی تجویز کا بنیادی مقصد گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔

    ثالثوں کے پیغامات ملے، تفصیل ظاہر نہیں کریں گے، ایران

    اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے، جبکہ ملکی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “سفارتکاری اور دفاع دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان محدود فوجی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    سفارتی اور سکیورٹی ماہرین 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو فریقین کے مابین مثبت مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔

  • MON JUL 20 2026 | 02:42 PM

    ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی

    امریکی حملے بلاجواز اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں ، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
    ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث ممالک نے تہران کو اہم پیغامات پہنچائے ہیں، ایران سفارتکاری اور دفاعی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

    تہران میں پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ یا سفارتکاری میں سے کسی ایک کا انتخاب ضروری نہیں،
    سفارتکاری بھی قومی مفادات کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکی حملے بلاجواز ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، طبی مراکز، واٹر پلانٹس اور پلوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

    ترجمان ایرانی وزارت نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوں گے، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے۔

    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارتکاری حقیقی ہونی چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار سفارتکاری کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہو گی۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی فوجی حملے تجارتی جہازوں کے جواب میں ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 01:01 PM

    ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے ، امریکی وزیر خارجہ

    ایران شدید معاشی بحران سے دوچار ہے ، مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں ، مارکو روبیو
    ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے ، امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطورِ دباؤ استعمال کر رہا ہے۔

    آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارتکاری حقیقی ہونی چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار سفارتکاری کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہو گی۔

    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی فوجی حملے تجارتی جہازوں کے جواب میں ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔

    واضح رہے امریکا نے مسلسل نویں روز بھی ایران کے مخلتف شہروں میں فضائی حملے کئے ، ایران امریکی حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے ، ایرانی کی پاسداران انقلاب نے کویت اور اردن میں کئی امریکی طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 10:12 AM

    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    اسرائیل کے حملے ایران کے اندر سے معلومات افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے ، ایرانی وزیر خارجہ
    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اُس وقت امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرے گا جب اسے میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہو گی۔

    قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل فوجی فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، مذاکرات کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب آپ نے عسکری محاذ پر قابلِ اعتماد عملی اور تزویراتی کامیابی حاصل کر لی ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی جانوں اور پورے ملک کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، فیصلے درست اور مکمل حساب و کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔

    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو مسلسل یہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ آیا جنگ جاری رکھنے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے یا اس کے نتیجے میں انسانی جانوں اور قومی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔

    قبل ازیں ترک میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ ۔ ایران کی افزودہ یورینیم کسی صورت فروخت نہیں کی جا سکتی۔

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ 12 روزہ جنگ سے پہلے ایران کو مذاکرات میں لالچ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ جنگ کے باوجود ایران کی پالیسیوں اور اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ دنیا کو احساس ہو گیا کہ آبنائے ہرمز ایران کی اصل طاقت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے جنگ شروع کرکے اور ایرانی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر غلطی کی ، ایران کبھی امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرا، ہم وینزویلا نہیں ہیں، اسرائیل کا خیال تھا وہ مختصر حملے کرکے سب تباہ کر دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حملے ایران کے اندر سے معلومات افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے، ممکن ہے ان حملوں کے پیچھے ایسا سکیورٹی خلا ہو جو اب بھی موجود ہے، صیہونی ایجنٹوں کو معلوم تھا آیت اللہ خامنہ ای ہر صبح اپنے دفتر میں ہوتے ہیں، رہبرِ اعلیٰ پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا پلان پہلے ہی تیار تھا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی کی منظوری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی، دوبارہ مذاکرات شروع کرنے یا نہ کرنے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 09:05 AM

    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ
    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات حملے مکمل کر لیے جس میں  میزائل و ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاع اور ساحلی نگرانی کے مقامات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔

    سینٹکام نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہی ہے۔ سینٹکام کی فورسز بدستور انتہائی چوکس، اپنے مشن پر مرکوز، مہلک کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جن 5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ان میں شمال مغربی ایران کا اہم شہر تبریز اور دو اہم بندرگاہی علاقے بھی شامل ہیں۔

    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    مقامی شہریوں اور صحافیوں کے مطابق تبریز، جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک، جبکہ جنوب مغربی توانائی مراکز بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں بھی دھماکے ہوئے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ، اس کے علاوہ صوبہ لرستان سے دشمن اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اردن کے عقبہ ائیرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر بھی دھماکے سے تباہ ہو گئے۔

    پاسداران انقلاب نے کہا کہ شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے۔ کمانڈ سینٹر پر حملہ شہید فوجیوں کے خون کا بدلہ ہے۔

     

     

  • MON JUL 20 2026 | 01:44 AM

    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    تباہ کئے گئے ایرانی ڈرون کے گولہ بارود کو ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا ہوا، سینٹکام کی تصدیق
    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں شمالی عراق میں ایرانی ڈرون حملے سے متعلق کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعہ 18 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب امریکی اہلکارایرانی ڈرون کو مارگرائے جانے کے بعد باقی رہ جانے والے گولہ بارود کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔

    اسی دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی جان کی بازی ہارگیا۔

    سینٹکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ مکمل تلاش کے دوران جائے وقوعہ سے نامعلوم انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کی شناخت اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    امریکی حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور دیگر حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل اردن میں ایران کے میزائل حملے میں بھی امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک اہلکار لاپتا جبکہ چار فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    مسلسل حملوں اور جانی نقصانات کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی سلامتی اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں فوجی تناؤ برقرار رہنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ٹائم لائن
WhatsApp