• LIVE
    MON JUL 20 2026 | 05:54 PM

    ’10 روزہ جنگ بندی کی تجویز’، ایران کی ثالثوں سے پیغامات موصول ہونے کی تصدیق

    عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں، ایران
    ’10 روزہ جنگ بندی کی تجویز’، ایران کی ثالثوں سے پیغامات موصول ہونے کی تصدیق

    ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثوں نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے۔

    یہ دعویٰ خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ معلومات ایک “سینئر ایرانی عہدیدار” نے فراہم کی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کی تجویز کا بنیادی مقصد گزشتہ ماہ طے پانے والے عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔

    ثالثوں کے پیغامات ملے، تفصیل ظاہر نہیں کریں گے، ایران

    اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ ثالثوں کی جانب سے تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے، جبکہ ملکی مسلح افواج امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “سفارتکاری اور دفاع دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔”

    ترجمان نے مزید کہا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان محدود فوجی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    سفارتی اور سکیورٹی ماہرین 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو فریقین کے مابین مثبت مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔

  • MON JUL 20 2026 | 02:42 PM

    ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی

    امریکی حملے بلاجواز اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں ، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
    ثالث ممالک نے اہم پیغامات پہنچائے ، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے ، اسماعیل بقائی

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث ممالک نے تہران کو اہم پیغامات پہنچائے ہیں، ایران سفارتکاری اور دفاعی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

    تہران میں پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ یا سفارتکاری میں سے کسی ایک کا انتخاب ضروری نہیں،
    سفارتکاری بھی قومی مفادات کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکی حملے بلاجواز ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، طبی مراکز، واٹر پلانٹس اور پلوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

    ترجمان ایرانی وزارت نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوں گے، امریکا سے مذاکرات قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں گے۔

    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارتکاری حقیقی ہونی چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار سفارتکاری کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہو گی۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی فوجی حملے تجارتی جہازوں کے جواب میں ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 01:01 PM

    ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے ، امریکی وزیر خارجہ

    ایران شدید معاشی بحران سے دوچار ہے ، مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں ، مارکو روبیو
    ایران کے ساتھ تنازع کے حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے ، امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطورِ دباؤ استعمال کر رہا ہے۔

    آسیان اجلاس کے لیے فلپائن روانگی کے موقع پر مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکا سفارت کاری کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن سفارتکاری حقیقی ہونی چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا ، امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار سفارتکاری کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال تہران کے حق میں نہیں ہو گی۔

    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ امریکی فوجی حملے تجارتی جہازوں کے جواب میں ہیں۔ ایران کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھاتا رہے گا لیکن دیگر ممالک کو بھی آگے آکر بوجھ بانٹنا ہو گا، چاہے وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت کی۔

    واضح رہے امریکا نے مسلسل نویں روز بھی ایران کے مخلتف شہروں میں فضائی حملے کئے ، ایران امریکی حملوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے ، ایرانی کی پاسداران انقلاب نے کویت اور اردن میں کئی امریکی طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 10:12 AM

    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    اسرائیل کے حملے ایران کے اندر سے معلومات افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے ، ایرانی وزیر خارجہ
    ایران وینزویلا نہیں ، برتری حاصل ہونے پر امریکا کیساتھ جنگ ختم کریں گے ، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اُس وقت امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرے گا جب اسے میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہو گی۔

    قطری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل فوجی فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، مذاکرات کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب آپ نے عسکری محاذ پر قابلِ اعتماد عملی اور تزویراتی کامیابی حاصل کر لی ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی جانوں اور پورے ملک کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، فیصلے درست اور مکمل حساب و کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔

    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو مسلسل یہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ آیا جنگ جاری رکھنے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے یا اس کے نتیجے میں انسانی جانوں اور قومی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔

    قبل ازیں ترک میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ ۔ ایران کی افزودہ یورینیم کسی صورت فروخت نہیں کی جا سکتی۔

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ 12 روزہ جنگ سے پہلے ایران کو مذاکرات میں لالچ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ جنگ کے باوجود ایران کی پالیسیوں اور اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ دنیا کو احساس ہو گیا کہ آبنائے ہرمز ایران کی اصل طاقت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے جنگ شروع کرکے اور ایرانی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر غلطی کی ، ایران کبھی امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرا، ہم وینزویلا نہیں ہیں، اسرائیل کا خیال تھا وہ مختصر حملے کرکے سب تباہ کر دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حملے ایران کے اندر سے معلومات افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے، ممکن ہے ان حملوں کے پیچھے ایسا سکیورٹی خلا ہو جو اب بھی موجود ہے، صیہونی ایجنٹوں کو معلوم تھا آیت اللہ خامنہ ای ہر صبح اپنے دفتر میں ہوتے ہیں، رہبرِ اعلیٰ پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا پلان پہلے ہی تیار تھا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی کی منظوری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی، دوبارہ مذاکرات شروع کرنے یا نہ کرنے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔

     

  • MON JUL 20 2026 | 09:05 AM

    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ
    امریکا کی نویں روز بھی ایران پر بمباری ، پاسداران انقلاب کا امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات حملے مکمل کر لیے جس میں  میزائل و ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاع اور ساحلی نگرانی کے مقامات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔

    سینٹکام نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہی ہے۔ سینٹکام کی فورسز بدستور انتہائی چوکس، اپنے مشن پر مرکوز، مہلک کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جن 5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ان میں شمال مغربی ایران کا اہم شہر تبریز اور دو اہم بندرگاہی علاقے بھی شامل ہیں۔

    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    مقامی شہریوں اور صحافیوں کے مطابق تبریز، جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک، جبکہ جنوب مغربی توانائی مراکز بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں بھی دھماکے ہوئے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے متعدد امریکی ڈرونز اور کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ، اس کے علاوہ صوبہ لرستان سے دشمن اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اردن کے عقبہ ائیرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 2 آئل ٹینکر بھی دھماکے سے تباہ ہو گئے۔

    پاسداران انقلاب نے کہا کہ شام کے علاقے التنف میں دشمن کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا ہے۔ کمانڈ سینٹر پر حملہ شہید فوجیوں کے خون کا بدلہ ہے۔

     

     

  • MON JUL 20 2026 | 01:44 AM

    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    تباہ کئے گئے ایرانی ڈرون کے گولہ بارود کو ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا ہوا، سینٹکام کی تصدیق
    عراق میں ایرانی ڈرون حملہ، ایک اور امریکی فوجی ہلاک

    امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں شمالی عراق میں ایرانی ڈرون حملے سے متعلق کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعہ 18 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب امریکی اہلکارایرانی ڈرون کو مارگرائے جانے کے بعد باقی رہ جانے والے گولہ بارود کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔

    اسی دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی جان کی بازی ہارگیا۔

    سینٹکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ مکمل تلاش کے دوران جائے وقوعہ سے نامعلوم انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کی شناخت اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    امریکی حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور دیگر حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل اردن میں ایران کے میزائل حملے میں بھی امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک اہلکار لاپتا جبکہ چار فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    مسلسل حملوں اور جانی نقصانات کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی سلامتی اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں فوجی تناؤ برقرار رہنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

  • SUN JUL 19 2026 | 03:10 PM

    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    ہماری پالیسی کا محور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا ہے ، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
    ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مفاہمتی یاددشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر نے امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک نیوز نیشن کو مختصر ٹیلی فونک انٹرویو دیا، جب ان سے تہران کے اس اعلان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی پابندی نہیں کرے گا، تو ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دہرایا کہ جنگ کا بنیادی مقصد ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینا ہے۔ امریکی پالیسی کا محور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ جون کے وسط میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ تھا۔

    اردن میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر شدید بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکی اڈوں پر حملہ

    حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے انتظام، بحری نقل و حمل اور سلامتی سے متعلق اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت کی افادیت بھی متاثر ہوئی۔

    ادھر روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم دیا ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ صورتحال دیکھ کر مجھے بے حد دکھ ہے، میں ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دوں گا، اگر ایران ڈیل پر عمل نہیں کر رہا تو امریکا کو بھی فکر نہیں۔

  • SUN JUL 19 2026 | 09:57 AM

    اردن میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر شدید بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکی اڈوں پر حملہ

    حاجی آباد ، سیرک بندر عباس اور جزیرہ قشم میں دھماکے سنے گئے ، ایرانی میڈیا
    اردن میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران پر شدید بمباری ، پاسداران انقلاب کا کویت میں امریکی اڈوں پر حملہ

    اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فوج نے ٹرمپ کے حکم پر ایران کیخلاف نئے حملے شروع کرتے ہوئے شدید بمباری کی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کر دیے۔ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرات سے محفوظ بنانے،  ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے اور گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والی ایرانی فورسز کو فوری سزا دینے کے مقصد سے کیے گئے۔

    سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے اسلامی انقلابی گارڈ کی ان فورسز کو بھی نشانہ بنایا جن پر 17 جولائی کو اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر

    سینٹکام کے مطابق اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں، اور وہ مکمل چوکسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے، کارروائی کے لیے تیار رہنے اور ہر ممکن ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے تازہ کارروائی میں سیرک کے قریب حملے کیے، اور حاجی آباد شہر کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا۔ ایرانی شہر بندر عباس اور جزیرہ قشم میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم کسی جانی نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    سرکاری ٹی وی پر جاری ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ کیمپ الادیری پر ڈرون سے اسلحہ ڈپو اور علی السالم ائیر بیس پر پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ریڈار نشانہ بنائے گئے۔

     

     

  • SAT JUL 18 2026 | 11:03 PM

    ایرانی میزائل حملوں میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، سینٹ کام کی تصدیق

    ایرانی حملوں میں لاپتہ امریکی فوجی اہلکار کی تلاش جاری ہے
    ایرانی میزائل حملوں میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، سینٹ کام کی تصدیق

    واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے میزائل حملوں میں 2 امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ اردن میں ایرانی حملوں میں ایک فوجی اہلکار لاپتہ ہے۔ جبکہ 4 فوجی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فوجی اہلکار معمولی زخمی تھے جنہیں علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

    امریکی فوج کی جانب سے لاپتہ اہلکار کی تلاش جاری ہے، جبکہ حملوں کے بعد خطے میں امریکی تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکا کی الازرق ائیر بیس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

    پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ اردن میں الازرق ائیربیس کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، حملے میں بیس پر 2 فائٹر جیٹس  اور 3 امریکی طیارے تباہ کیے، جبکہ حملے میں بیس پر فائٹر جیٹ شیلٹرز، پارکنگ ریمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا سے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان

    روسی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس حملے سے پہلے امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا۔

  • SAT JUL 18 2026 | 10:46 PM

    امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر

    واشنگٹن نے ایک بار پھر اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرکے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای
    امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

    ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت (MoU) کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور ساکھ سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے دوبارہ اپنا “حقیقی چہرہ” بے نقاب کر دیا ہے۔

    اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کی پالیسیاں جبر، آمریت اور توسیع پسندی پر مبنی ہیں اور واشنگٹن نے ایک بار پھر اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرکے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج عظیم شیطان نے ایک بار پھر اپنا بے نقاب چہرہ دکھایا ہے تاکہ جرائم اور وعدہ خلافی کا یہ سیاہ باب امریکا کی بددیانتی، غیر معقول رویے، ناقابلِ اعتماد ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت بن جائے۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ “شہید رہبر” کے جنازے نے دشمن کو غصے اور خوف میں مبتلا کر دیا، جبکہ امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔

    انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ملکی حکام پر اعتماد رکھیں، تنقید کرتے وقت احتیاط سے کام لیں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے تقسیم اور تصادم سے گریز کریں۔

    ایران کا امریکا سے مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خامنہ ای کے سخت مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران، واشنگٹن پر اعتماد کو مکمل طور پر ختم شدہ سمجھتا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی حل کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔

ٹائم لائن
WhatsApp