ہم نے کیس جلد سماعت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، لطیف کھوسہ
اگر آپ عدالت پر چھوڑیں کہ نظرِ ثانی کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے تو ہمیں یکساں معیار طے کرنا ہوں گے
معاشی معاملات میں ہماری مہارت نہیں، آپ چاہیں تو متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
ادب و اخلاق کے بغیر مزہ نہیں۔
نظام انصاف سے لوگوں کا یقین اٹھ چکا ہے۔
سپریم کورٹ میں 13 جولائی اور 13 اگست 2022 سے 2 ججز کی آسامیاں خالی ہیں
تحریری حکمنامہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔
پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھادیا
چیف جسٹس کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے