اسلام آباد میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے پلان تیار


(ابوبکر) وفاقی ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں پانی کی قلت کے خدشے سے نمٹنے کے لئے پلان تیار کر لیا ہے۔

حال ہی میں سی ڈی اے بورڈ نے سی ڈی اے بلڈنگ بائی لاز میں ترمیم کردی ہے، جس میں گھر گھر اور بلڈنگ رین ہارویسٹنگ ٹیکنالوجی کو لازمی قرار دینے کی تجویز کی منظوری دی گئی ہے۔

تجویز کے مطابق 400 مربع گز یا اس سے زائد کے پلاٹوں پر تعمیر ہونے والی ہر قسم کی عمارتوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ٹینکوں کی تعمیرلازمی قراردیا گیا۔

ٹینک کے سائز اور نقشہ کی منظوری کے بغیر تعمیرات نہیں کی جاسکیں گی، کسی بھی عمارت کو اس وقت تک تکمیل کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا جب تک کہ بارش کے پانی کی ذخیرہ کرنے والی ٹینک سائٹ پر فزیکل طور پر تعمیر نہ ہو جائے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پانی کی قلت کے ممکنہ خدشے پر سی ڈی اے کے واٹر مینیجمنٹ ونگ نے اس حوالے سے رپورٹ تیار کرچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہرسال پانی 1.7 میٹر نیچے جارہا ہے۔ ممکنہ قلت سے نمٹھنے کے لئے سی ڈی اے اور پاکستان کونسل آف ریسرچ برائے آبی وسائل پانی کی قلت کو کنٹرول کرنے کے پلان پر کام کر ر ہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی: استعمال میں اضافہ، بڑھتی آبادی اور صنعت کاری کی وجہ سے ایک چیلنج بن چکا ہے۔

اس حوالے سے سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹوریل ایریا میں مخصوص مقامات پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام قائم کیا ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کا ماڈل تھر اور چولستان میں قائم کیا جاچکا ہے، اس کے علاوہ بلوچستان اور ڈی آئی خان میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے بھی یہ ماڈل استعمال ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں بارش کا پانی دریائے سواں میں ضائع ہو جاتا ہے، ضائع پانی کو واٹر ری چارجنگ کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں