“سول جج بھی ملازمہ پر تشدد کرتا تھا” رضوانہ کی دادی کا الزام


رضوانہ تشدد کیس میں پھر ایک نیا موڑ آگیا، کمسن ملازمہ رضوانہ کی دادی نے الزام عائد کیا ہے کہ سول جج عاصم حفیظ خود بھی بچی پر تشدد کرنے میں ملوث تھے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ملازمہ کی بہن نے سول جج کے حوالے سے بڑے انکشافات کیے۔ انہوں نے کہا کہ ‘رضوانہ سے فون پر بات ہوتی تھی، وہ ہمیشہ مختصر بات کرتی تھی۔ رضوانہ جب فون پر بات کرتی تو سول جج کی اہلیہ سومیا اس کے ساتھ ہوتی تھی۔’

دوسری طرف رضوانہ کی دادی کا کہنا ہے کہ سول جج اور اس کی فیملی پوتی کو ایک کمرے میں بند کر کے کئی روز کیلئے کشمیر چلے جاتے تھے۔ بچی نے بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک کام کرتی تھی اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا لیکن اس پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا۔’

رضوانہ تشدد کیس ، ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

ملازمہ کی دادی نے بتایا کہ ‘سول جج عاصم حفیظ بھی رضوانہ کو مارنے میں ملوث ہے۔ پولیس نے ابھی تک بچی کا کوئی بیان نہیں لیا، رضوانہ کے بیان کے بعد سومیا اور اس کے شوہر کو سزا ملے گی۔’

خیال رہے کہ کمسن ملازمہ پر تشدد کرنے والی ملزمہ کے شوہر اور سول جج عاصم حفیظ کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے راولپنڈی میں او ایس ڈی تعینات کر دیا ہے۔


متعلقہ خبریں