ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف کیس: حکومتی اتحادکا فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے یا نہیں؟ حکمران اتحاد نے سر جوڑ لیے

 حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف کیس میں فل کورٹ  بنچ کی تشکیل کا مطالبہ کردیا۔

پریس کانفرنس کے دوران ن ليگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف، ایم کیو ایم، اے این پی، بی این پی، بلوچستان عوامی پارٹی اور وفاق میں شامل اتحاد کی دیگر جماعتوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے کیس پر سپریم کورٹ سے مطالبہ  کیا ہے کہ کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنچ تشکیل دیا جائے ۔

سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمان کا  کہنا ہے کہ احتساب سب کے لیے ضروری ہے ،ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جارہاہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بنچ کونسا ہو گا، اور فیصلہ کیا ہو گا، یہ انصاف ہے، مریم نواز

حکومتی اتحادیوں کی اہم پریس کانفرنس میں گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ خداراقوم کو اس حد تک نہ پہنچائیں کہ قوم اداروں کے خلاف ہوجائے،عوام بھی ادارہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں ملک کی بات ہورہی ہے۔ہم ریاست پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔قوت برداشت کا معاملہ ہے، اس کا امتحان نہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ معیشت ٹھیک ہو، لیکن کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ملک سری لنکا کے قریب پہنچ چکاتھا، سیاستدانوں کے اتحاد نے ملک کو سری لنکا جیسے حالات بنانے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ انصاف کی توقع نظرنہیں آرہی،اس لیے فل بینچ کا مطالبہ کیا۔جتنی اجتماعیت ہوگی اتنی ہمیں امیدہوگی کہ فیصلہ میرٹ پرہوگا۔ایسے حالات سے ہم نکلنا چاہتے ہیں، ملک میں اطمینان کی کیفیت بحال کی جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان  نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی۔اختیار پارلیمانی لیڈر کے ہوں گے اور وہ استعمال کرے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ اتفاق کاوہ راستہ ہےجوہم نکال رہےہیں۔ سزاتب ملتی ہےجب آپ مجرم ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:فل کورٹ بینچ کا مطالبہ ، 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتے، بلاول بھٹو

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی نے کہا ہے کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے ، یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں۔فل بینچ کے معاملے میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو گرینڈ جرگہ کر لیں۔

اس موقع پر طارق بشیر چیمہ کا  کہنا تھا کہ جائز مطالبہ ہے کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، امید ہے سپریم کورٹ فل کورٹ کا مطالبہ مانے گی۔


متعلقہ خبریں