وزیر اعظم کا پاک امریکہ تعلقات میں نئے باب پر زور



وزیر اعظم عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات میں نیا باب شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا سے پہلے سیاسی تصفیہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں منتخب حکومت کو ہی تسلیم کریں گے، پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے، افغان طالبان نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضے کی کوشش کی تو ہم سرحد سیل کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہی افغان طالبان کو امریکا سے بات چیت کے لیے رضا مند کیا،پاکستان طالبان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ جنگی فتوحات پر زور نہ دیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستا ن اب کسی تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتا اور نہ ہی افغان مہاجرین کی نئی لہر کا متحمل ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی اتحادی ہونے کی وجہ سے دہشت گردوں نے پاکستان کو نشانہ بنایا، دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان نے بہت سی قربانیاں دیں لیکن امریکا ہمیشہ ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کے مطالبے پر پاکستانی حکومت نے بساط سے بڑھ کر کام کیا۔

 وزیراعظم عمران خان اورچینی وزیراعظم کاٹیلی فونک رابطہ

پاک بھارت تعلقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، مودی ہندوتوا ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں معمول کے تعلقات سے دونوں کو فائدہ ہو گا ،ہم نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں ہمارے امریکہ سے اچھے تعلقات ہیں۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ہمیشہ قریبی تعلقات رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے اپنے تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں، ریاستوں کے تعلقات مشترکہ مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جعفرائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان 22 کروڑ آبادی والا ملک ہے، امید ہے مستقبل میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئیگی۔

ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے اچھے تعلقات پوری دنیا کے مفاد میں ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

 


متعلقہ خبریں