نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: قرض لینا کتنا آسان؟

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: قرض لینا کتنا آسان؟

وزیراعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت آپ بھی اپنا گھر بنا سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے مقابلے میں سستے ریٹس پر گھر بنانے کے لیے بینکوں سے قرضہ لیا جاسکتا ہے۔ ہاوسنگ اسکیم کے تحت قرضہ کیسے لیا جاسکتا ہے۔

قرض لینے کے خواہش مند افراد کے لیے شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ دو فوٹوز، سیلری سلپ یا کاروبار کی صورت میں اخراجات کی تفصیلات ہونا ضروری ہے۔

ان ڈاکومنٹس کے ساتھ بینک کو آسان درخواست فارم فل کرکے دینا ہوتا ہے۔ جس کے بعد بینک کے لیے شہری کی درخواست کو ایک ماہ میں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔درخواست گزار کے لیے کسی بینک میں اکاؤنٹ کا ہونا ضروری نہیں۔ ہر درخواست کی اسٹیٹ بینک خود نگرانی کررہا ہے۔

مزید پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم کا مقصد بے گھرافراد کو گھر فراہم کرنا ہے

ٹیئر ون میں قرض پر شرح سود پہلے پانچ سال کے لیے تین فیصد اور پھر اگلے پانچ سال کے لیے پانچ فیصد ہوگی۔ جس میں زیادہ سے زیادہ 27 لاکھ تک کا قرضہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ قرض کی حد 5 مرلے یا 1 سو 25 گز کے گھر یا 8 سو 50 اسکوائر فٹ کے فلیٹ کے لیے ہوگی۔

ٹیئر ٹو میں قرض کی حد 60 لاکھ ہے۔ جس میں 5 مرلہ کا گھر یا 12 سو 50 اسکوائر فٹ کا فلیٹ خریدا جاسکتا ہے۔ پہلے پانچ سال کے لیے شرح سود 5 فیصد اور اگلے پانچ سال کے لیے 7 فیصد ہوگی۔

ٹیئر تھری میں قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے ہے۔ جس میں 10 مرلہ کے گھر 2 ہزار اسکوائر فٹ کا فلیٹ خریدا جاسکتا ہے۔ جس میں شرح سود پہلے 5 سال کے لیے 5 فیصد اور اگلے 5 سال کے لیے 9 فیصد ہوگی۔

اگر قرض کی مدت دس سال سے زائد ہوگی تو بینک مارکیٹ ریٹس پر شرح سود لے گا۔


متعلقہ خبریں