اسلام آباد: حکومت پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے15 جولائی2020سے واہگہ بارڈرکھولنے کا فیصلہ ہے۔
دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت کی خصوصی درخواست پر پاکستان نے واہگہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے تحت اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تمام باہمی تجارت بحال کردی ہے۔ کورونا وائرس کے تناظر میں بارڈر پر تمام ایس او پیز اور پروٹوکولز کا خیال رکھا جائے گا۔
With a view to facilitate Afghanistan’s transit trade, Pakistan has decided to resume Afghan exports through Wagah border cmfrom 15 July 2020, after implementing COVID-19 related protocols. We have already restored bilateral trade and Afghan transit trade at all border crossings.
— Mohammad Sadiq (@AmbassadorSadiq) July 13, 2020
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان شعبوں میں تجارت اور معاہدے کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔
واضح رہے کہ کورونا کی وبا پھوٹنے کے بعد دنیا بھر کے ملکوں کی طرح پاکستان نے بھی پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی راہداریوں کو عارضی طور پر نقل و حمل کے لیے بند کر دیا تھا۔
کورونا وائرس کے باعث سرحدی بندش سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سینٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں معطل تھیں۔
پاکستان سے تازہ پھل اور سبزیوں کی افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کو برآمد بھی معطل ہے۔ وسط ایشیائی ممالک کو سبزیوں اور فریش فروٹ کی ایسکپورٹ معطلی سے تاجروں کو روزانہ کی بنیاد پر نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
سرحد کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں پاکستانی اور افغان شہری باب دوستی کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔
چیمبرآف کامرس کے مطابق سرحدی بندش سے بڑی تعداد میں مال بردار ٹرک اور کنٹینرز پاکستان میں پھنس گئے ہیں جبکہ تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے پاکستانی تاجروں کو بڑے پیمانے پر نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔