مستحسن خان اور مصطفیٰ زاہد آواز کا جادو جگارہے ہیں۔ گانے کے بول ترتیب دئیے ہیں شکیل سہیل نے جبکہ موسیقار ہیں آذان سمیع خان اور سعد سلطان ۔
Author: ویب ڈیسک
بھارت کے ایوان زیریں نے کشمیر کی علحدہ حیثیت سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور کر لیا
چین کا کہنا ہے بھارت کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو سرحدی معاملات کو مزید پیچیدہ بنائے
ڈیرہ غازی خان : دریائے سندھ کے سیلابی ریلے نےتحصیل تونسہ شریف کے نشیبی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے جس سے ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں ڈوب گئی ہیں۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے بیٹ اشرف، موضع جراح، موضع جڑھ لغاری، موضع عیدہ آرائیں، موضع چک عیدہ آرائیں، موضع لکھو، موضع بلوچ خان، ناڑی شاہ، دائرہ شاہ اور بستی حبیب کے علاقے متاثر ہوئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان علاقوں میں سیلابی پانی کی وجہ سے ہزاروں مکین پھنس گئے ہیں جنہیں نکالنے…
بھارتی مصنفہ کی طرف سے سامنے لائے گئے تاریخی مواد میں بھارت کے سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو متعدد بار کشمیر کے مسئلے کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے حل کرنے کا اعادہ کرتے نظر آتے ہیں۔
امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد نے لکھا کہ میری ٹیم اور طالبان چار حصوں پر مشتمل معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت جاری رکھیں گے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جموں و کشمیر سے متعلق اہم فیصلے مقامی لوگوں کی منشا کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
اس دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو پریشان کئے رکھا ۔ امیت شاہ کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد سے بولنے کی اجازت طلب کرتے رہے ۔
وفاداریاں انفرادی طور پر بدلی گئی ہیں۔ پیسے چلے یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، سلیم مانڈوی والا
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں کی قیادت زیرعتاب ہے اور جب تک عمران خان موجود ہے کوئی دروازہ نہیں کھلے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کلسٹرایمونیشن کااستعمال بین الاقوامی قوانین اور جنیواکنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
تجزیہ کار ناصر بیگ چغتائی نے کہا کہ جماعتوں کو اپنی اپنی سطح پر معلوم ہوچکا ہے لیکن یہ معاملہ وہ اس سے آگے نہیں بڑھائیں گی۔
جب وزیراعظم عمران خان نے سیکرٹ بیلٹنگ یعنی خفیہ ووٹ کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ انتخاب کی تجویز دی تھی تو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اسے رد کر دیا تھا۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ میرحاصل بزنجو نے سینیٹ الیکشن ہارنے پرایک ادارے کے سربراہ فوجی افسر کے خلاف الزام تراشی کی
حکومت کو اپوزیشن کو مزید تقسیم کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔














