فاروق عادل
فاروق عادل

۔۔۔اور کتنی جانیں لو گے؟

پروفیسر شریف المجاہد اور ان کے شاگرد رشید پروفیسر زکریا ساجد بڑے زیرک لوگ ہیں۔ ان بزرگوں نے جامعہ کراچی

گلاس توڑا بارہ آنے

چند برس ہوتے ہیں، ہمارے طلعت حسین خفا ہو گئے۔ سبب یہ تھا کہ ہمارے ٹیلی ویژن چینل برطانیہ کے

مجہول الفکر مخلوق

سندھی کہاوت ہے جب تم کبھی لنگڑوں کے گاؤں میں جاؤ تو لنگڑانا شروع کردو ورنہ لنگڑے تمھاری ٹانگ توڑ

ایک فلم کی کہانی

اخبار ایک زمانے میں زندگی تھے۔ اخبار میں چھپنا، اس میں دِکھنا، یہ سب غیر معمولی تھا، اخبار میں لکھنے

ہماری سیاست کے جڑواں بچے

ہماری سیاست کے دو جڑواں بچے تھے،چند برس ہوتے ہیں، ان میں سے ایک سیاسی کشمکش کی نذر ہو کر

بخار اتاریں

اقوام متحدہ کی عظیم الشان عمارت مجھے کئی وجہ سے یاد ہے، اُس دوپہر جب اِس عالمی ادارے کی دہلیز

عالی دماغ

سراج منیر مرحوم کو بس دو ایک بار ہی دیکھا۔ یہ سن اکیاسی یا بیاسی کی بات ہو گی۔ اشفاق

شنگھائی تعاون تنظیم اور کشمیر

روس کے ایشیائی دارالحکومت اورن برگ میں ان دنوں مختلف تہذیبوں کے رنگ بکھرے ہیں اور شہر والے سوچتے ہیں

تند وتیز ندی کا اترنا

پروفیسر، ڈاکٹر اور شیخ الاسلام کے مناصب ابھی تک انھوں نے نہیں سنبھالے تھے لہٰذا صرف علامہ کہلاتے تھے۔ ٹیلی

وفاقی کراچی

موجودہ ایم کیو ایم کے سب سے نفیس چہرے اور اس حکومت کے قانونی دماغ بیرسٹر فروغ نسیم نے آئین

ڈیجیٹایز اردو

اس زمانے میں لوہے اور سیمنٹ کا جنگل ابھی چھدرا تھا، لہٰذا شام ڈھلے جب ہم جامعہ کراچی سے نکلتے

بھارت کا خلائی مشن

ناگاہ ایک خبر نظرسے گزری تو ترکی کے شاعر کبیر حضرت محمد عاکف ایرصوئے کی یاد آئی۔ خبر یہ تھی

بی ایم کٹی، عہد اور شخصیت

بی ایم کٹی کے ذکر پراوّل دل میں ایک گدگدی سی ہوتی ہے، اس کے بعد یادوں کی پٹاری کھل

کراچی، کچرا اور سیاست

بارہ پندرہ برس ہوتے ہیں، میاں محمود عمر لاہور سے کراچی تشریف لائے۔ میاں صاحب فی الاصل تو شاعر تھے

جو بھرم بچا تھا، نہیں رہا

امام اختلاف حضرت حسن نثار جو بات ایک زمانے سے کہتے چلے آ رہے ہیں، اس حکومت کے نفس ناطقہ

کشمیر، ادیب اور ضمیر

بات ارون دھتی رائے سے شروع ہوئی اور دور تک پہنچی۔ ہمارے دوستوں میں راؤ فضل کا شمار ان لوگوں

ایک اور دریا کا سامنا

وہ جھاگ اڑاتا، شور مچاتا اور بل کھاتا دریائے کھرمنگ تھا جس کے کنارے کھڑی جیپ میں ہم بیٹھے تو

اب آپ یہ کریں

سقوط کشمیر تو ہو گیا، اب اس کے بعد؟ وہی عمران خان والی بات کہ کیا کریں، بھارت پر حملہ

آتش فشاں میں چھپے امکانات

ہمارے ایک بزرگ تھے، مولانا ظفر احمد انصاری، قائد اعظمؒ کے قابل اعتماد ساتھی، آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ

کنارِ بحر گیلان

ابھی ایک دوست نے پوچھا، سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر کیا کہتے ہو؟سوال مشکل تھا، میں سوچ

ٹاپ اسٹوریز

WhatsApp