زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
سیکیورٹی لیپس نہیں، کچرہ کئی روز سے پڑا تھا, ایس ایس پی آپریشن
دھماکہ پولیس چوکی کے قریب ہوا،پولیس
پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی
مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل
پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی غیرملکی کوششیں جاری ہیں، وزیر داخلہ
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئٹہ حملے میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر بہت غمزدہ ہوں۔ سماجی…
وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے…
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
سیکورٹی ناکامی ہے اس لیے گاڑی ہوٹل کی پارکنگ تک پہنچی، وفاقی وزیر داخلہ
دھماکے کے باعث ارد گرد کی عمارتوں اور متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
آرمی چیف کی پولیس اور سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت
اہل علاقہ کے مطابق دھماکے کے فورا بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ وہاں پر موجود پولیس وین کے قریب کیا گیاہے ۔
کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر خیزئی چوک کے قریب آج شام کو ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر میں اس وقت دھماکہ جب وہاں سے مسافر اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہونے والے تھے۔














