صبح شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں میں چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ سیکیورٹی فررسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی تصدیق
مظلوم کشمیریوں کی آہوں، سسکیوں اور چیخوں نے واشنگٹن میں موجود درد مند دل رکھنے والے انسانوں کو اپنی جانب ضرور متوجہ کرلیا ہے۔
کٹھ پتلی گورنر کا کہنا ہے کہ اگر فون اور اسکول بند ہیں تو کون سی قیامت آ گئی ہے۔
اشیائے خور و نوش کی پیدا ہونے والی قلت نے قحط جیسی صورتحال پیدا کرکے لوگوں کی زندگیوں کو جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔
قابض بھارتی فوج کی بربریت نے ایک اور معصوم کشمیری کی جان نگل لی
مقبوضہ وادی چنار کے حوالے سے تمام سنجیدہ نگاہیں بھارت کی سپریم کورٹ پہ مرکوز ہوگئی ہیں۔
مقبوضہ وادی چنار میں جمہوری اور پرامن طریقہ کار سے استحکام پیدا کیا جائے۔ بھارتی حکومت کو خط
سری نگر کے ایک سرکاری اسپتال میں پیلٹ گنز کے 50 زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے 13 کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے سے متعلق تمام امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کی یقین دہانی
بے گناہ کشمیری نوجوان کو اس وقت شہید کیا گیا جب سیکیورٹی کے نام پر قابض افواج علاقے میں آپریشن کررہی تھیں۔
شہدا میں تین ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جنہیں دوران حراست سرکاری عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے سماج کو تقسیم کیا، بالا کوٹ حملے کا ڈرامہ رچایا لیکن اس کے باوجود اسے اب انتخابات میں شکست دکھائی دے رہی ہے۔
پیلٹ گنز سے زخمی ہوکر اسپتال پہنچنے والوں میں سے دس فیصد ایسے مریض بھی ہیں جو بینائی سے مکمل طور پر محروم ہوگئے ہیں۔
وریندر گوجر نے دھمکی دی ہے کہ اگر کشمیری طلبا کو واپس نہ بھیجا تو وہ یکم مارچ کو دارالعلوم دیوبند پر تالا لگا دے گا۔
انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کا کیا پیغام جارہا ہے؟ اس پر مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا۔













