سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی
بھارتی ساحل کے قریب اٹھنے والا طوفان اگلے 24 گھنٹوں کے دوران خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے۔
سمندری طوفان گزشتہ رات بھارتی شہرگجرات سے ٹکرایا تھا
گجرات میں شدید بارش ہو رہی ہے اور تندوتیز ہوائیں چل رہی ہیں۔
سمندری طوفان ٹھٹھہ سے 730 جبکہ کراچی سے 800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، محکمہ موسمیات
سمندری ہوائیں معطل رہنے کی وجہ سے کراچی میں کل 17 مئی تک موسم گرم رہے گا
سمندری طوفان سے بھارت اور بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
طوفان اتوار کو جرمنی پہنچے گا اور بدھ تک رہے گا، محکمہ موسمیات جرمن
چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہناہے کہ سمندری طوفان ماہا کراچی کے جنوب میں 705کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔
بحیرہ عرب میں بننے والا طوفان ماہا شدت اختیار کر رہا ہے۔
ایک ہی وقت میں تین طوفانوں کی موجودگی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب ہے، ماہرین موسمیات
ٹراپیکل سائیکلون ’کیار‘ شدت اختیار کرکے انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک کسی بھاری نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ،پی ڈی ایم اے نے ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ملیر میں 300 خیموں پر مشتمل خیمہ بستی قائم کردی ہے ۔
صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میرضیاءلانگو نے مزیدکہا کہ اس نظام سے پاکستان کا ساحلی علاقہ براہ راست خطرہ میں نہیں ، تاہم اس نظام کے باعث مکران کی ساحلی پٹی میں 28 اکتوبر سے 30اکتوبرتک بارشوں کا امکان ہے ۔
لہریں اونچی اور سطح سمندر بلند ہونے سے پانی ڈی ایچ اے گالف میں بھی داخل ہوگیا










