خورشید شاہ نے کہا کہ حالات اچھے نہیں ہیں ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت اب نواز شریف کو واپس نہیں لا سکتی۔
چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر نے والے کبھی عوام کے خیر خواہ نہیں سکتے۔
موسم کی خرابی کے باعث آج کراچی نہ آسکا جس کے لیے لوگوں سے معذرت کرتا ہوں، وزیراعظم عمران خان
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ہم سلیکٹڈ حکومت کو تو برداشت کرسکتے ہیں لیکن کوئی غیر آئینی اقدام برداشت نہیں کریں گے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہم حکومت مخالف مارچ کا حصہ ضرور ہوں گے کیونکہ حکومت نے عوام کو مشکل میں ڈالا۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے آزادی صحافت پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاون پر جہانگیر ترین نے کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے جس سے سپلائی چین متاثر ہو۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا جائے ان کو ہر چیز کی سمجھ دیر سے آتی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بدترین صورتحال حکومت کی غیر سنجیدگی، نا اہلی اور کوتاہی کا شاخسانہ ہے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بلاول صاحب یہ آپ کے دور کی کرپشن ہے جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے میں قرضہ لینے سے بہتر خودکشی کر لوں گا لیکن اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ حکومت 11 ہزار ارب روپے کا قرض لے چکی ہے۔
کہتے ہیں آج مولانا نے کمال دیدہ دلیری سے تسلیم کیا کہ ان کا دھرنا حکومت کیخلاف ایک سازش تھی
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ اب یہ جعلی تبدیلی اپنی موت آپ مرے گی اور اصل تبدیلی جمہوری طریقے اور اقدار سے آئے گی۔
پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے کہا کہ شہباز شریف کی نااہلی کی وجہ سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تبدیل ہو سکتے ہیں اور لگتا ہے بلاول بھٹو ان کی جگہ لیں گے۔














