مریم نواز کو کچھ دیر قبل اپنے والد نواز شریف کی عیادت کے لیے پے رول پر رہا کیا گیا تھا۔
مریم نواز اور نوازشریف کے بھتیجے یوسف عباس نیب کی تحویل میں 48 روزہ جسمانی ریمانڈ کاٹ چکے ہیں
مریم نواز ملک کے تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم کی بیٹی ہے جنہوں نے ملکی ترقی کیلئے بہت اقدامات کیے، درخواست
مریم نواز سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی ہے، وہ چھوٹے سے سیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہی ہیں۔ڈاکٹر عدنان
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
‘میرا خاندان سیاسی تاریخ کا حامل ہے۔‘
عدالت نے نیب کی جانب سے دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 9 اکتوبر کو انہیں دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے عہدے سے ہٹانے کی پی ٹی آئی خواتین اراکین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے مریم نواز کے وکیل سے آرٹیکل 62،63 کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں سے متعلق دلائل طلب کر رکھے تھے۔
دونوں بڑی جماعتیں پی پی پی اور ن لیگ حکومت کے خلاف فوری تحریک شروع کرنے سے گریزاں ہیں
آزمائشوں میں لیڈر ابھرتے ہیں یا ڈوبتے ہیں۔ شہباز شریف ڈوب گئے، پارٹی کو بھی ڈبو دیا
مریم نواز کل اپنے والد کو رخصت کریں گی اور نواز شریف کے ساتھ گاڑی میں موجود ہوں گی، مریم اورنگزیب
ہ ذاتی معالج کو بھی سابق وزیراعظم سے ملنے نہیں دیا گیا، مریم نواز کا ٹویٹ
بلاول کا کل بھی شکریہ ادا کیا تھا اور اب بھی ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں، مریم نواز
امید کرتا ہوں کہ ہم انسانیت اور مہذب رویے کی روائتوں کو برقرار رکھیں گے، کیونکہ ہم انسان پہلے ،سیاستدان بعد میں ہیں۔ بلاول













