خدشہ ہے پی ٹی آئی خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر عدم اعتماد کر دے گی، فیصل کریم کنڈی
پی ٹی آئی نے پرامن صوبے کو شدت پسندوں کے حوالے کر دیا،وزیراعلیٰ اہل ہوتا تو اپنے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کو امن کا گہوارہ بنا دیتا
ہم انتظار میں بیٹھے ہیں کہ چیزیں تبدیل ہوں ،ہم نے قومی اسمبلی میں بھی 4سال انتظار کیا تھا پھر عدم اعتماد لائے،فیصل کریم کنڈی
علی امین گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے،گورنرخیبرپختونخوا
اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی آئین سے بغاوت کے مترادف ہے،صوبائی بجٹ پاس کرنا خیبرپختونخوا حکومت کی آئینی مجبوری ہے،فیصل کریم کنڈی
آئین کے مطابق 14 روز تک سمری پر دستخط کرنے کا پابند ہوں، فیصل کریم کنڈی
اگر گورنر کے پاس اختیار ہوتا تو اب تک ان کو الٹا ٹانگ چکا ہوتا،جن لوگوں نے ٹیکس پیئر کے پیسے کھائے ان کو سزا ہونی چاہئے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کہہ رہے ہیں کہ میرے وزرا چور ہیں، گورنر خیبرپختونخوا
4 اپریل کو صوبائی سیشن میں بہت سی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی، فیصل کریم کنڈی
ہمارا فوج اور ریاست پر مکمل اعتماد ہے، صوبے میں امن قائم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے ، فیصل کریم کنڈی
پی ٹی آئی قیادت کو لیڈر کی فکر نہیں بلکہ عہدوں کیلئے آپس میں لڑ رہے ہیں
نفرت اور تقسیم پیدا کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے
افغانستان کی زمین اگر پاکستان کیلئے استعمال ہوگی تو اسکا جواب ملے گا،فیصل کریم کنڈی
کُرم کی 26 کلومیٹر کی سڑک نہ کھلوانا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے
صوبے میں ایسی صورتحال نہیں کہ گورنر راج لگایا جائے۔







