• LIVE
    FRI JUN 26 2026 | 09:19 AM

    امریکا کا ایران کے پاسداران انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ

    سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حکام دوحہ میں ملاقات کریں گے ، جے ڈی وینس
    امریکا کا ایران کے پاسداران انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ

    امریکا نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے برطانوی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حکام دوحہ میں ملاقات کریں گے۔ جس میں اختلافات ختم کرنے، معاشی مراعات اور تعاون پر بات چیت ہو گی۔

    امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ ایسے نئے رابطے قائم کیے ہیں جو پہلے نہیں تھے، ان رابطوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے بھی شامل ہیں۔

    ایران نے منجمد اثاثوں سے امریکی مصنوعات خریدنے کا دعویٰ مسترد کر دیا

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوئی فیس نہيں ہو گی ، کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے ٹیکس وصول نہيں کر سکتا۔

    خلیجی ملکوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ خلیج تعاون تنظیم کے ملکوں نے آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس وصولی کی مخالفت کی ہے۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت نہ ہونا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی ، ایران کے ساتھ معاہدے میں خلیجی اتحادیوں کا تحفظ بھی شامل ہو گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک نے اپنے کچھ سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے ، خلیجی ممالک سے ایران کی تعمیرِ نو کے فنڈ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

    ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول ہے ، پاسداران انقلاب

    امریکی وزیرخارجہ نے کہا خطے میں پراکسیز گروپ کو حاصل ایران کی حمایت امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، ہم ایران کے اقدامات سے معاہدے پر قائم رہنے کی ان کی نیک نیتی کو دیکھیں گے، صدر ٹرمپ بھی عملی اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایران کے ساتھ معاہدہ کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ یورپ کی جانب سے فوجی اڈے دینے سے انکار نے امریکا یورپ اتحاد کو کمزور کیا، ایران کا خطرہ امریکا سے زیادہ خود یورپ کو ہے۔

  • THU JUN 25 2026 | 05:11 PM

    امریکا ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، مارکو روبیو

    اگر ایران ایک اچھی ڈیل چاہتا ہے تو امریکا بھی مثبت پیش رفت کیلئے تیار ہے
    امریکا ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، مارکو روبیو

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں ہو گی۔ اور امریکا ایران کی جانب سے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ اور یہ آبی گزرگاہ کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔ عمان اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کوئی فیس نافذ نہیں کی جائے گی۔ جبکہ اس تجویز کو خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل نہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے ایران اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔ تاہم اگر ایران ایک اچھی ڈیل چاہتا ہے تو امریکا بھی مثبت پیش رفت کے لیے تیار ہے۔

    علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ بحرین کے بادشاہ کے ساتھ ان کی مفید ملاقات ہوئی۔ جبکہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بھی مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا روز جاری ہے اور امریکا لبنان میں امن کا خواہاں ہے۔

    وینزویلا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے امدادی اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں اور مشکل وقت میں وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور ریسکیو آپریشنز کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے، امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین

    مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور عمان کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔ جبکہ امریکا اور اٹلی کے روابط بھی مضبوط ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  • THU JUN 25 2026 | 09:10 AM

    ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول ہے ، پاسداران انقلاب

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کیساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے ، ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا
    ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول ہے ، پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمزکے لیے کسی بھی نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک ہے۔

    پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ان مخصوص روٹس کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ایران نے باقاعدہ طور پر مقرر کیے ہیں۔

    ایرانی پاسداران نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے،  ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب ایرانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایران امریکا معاہدے کو امریکا کی شکست کا اعلان قرار دے دیا۔

    امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ

    آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت دباؤ اور جبر کا نتیجہ نہیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کا مظہر ہے، یہ یادداشت امریکا کی شکست کا اعلان بن گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک علاقائی سلامتی کو خود یقینی بنائیں، بیرونی مداخلت مسترد کر دیں۔ خطے کے ممالک کے ساتھ خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔

    علاوہ ازیں ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے امریکی حکام کے متضاد بیانات ایرانی عوام کے واشنگٹن پر پہلے سے موجود عدم اعتماد کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔

    قطر نے آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی مخالفت کر دی

    ایکس پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایسے بیانات ایرانی عوام کے جمع شدہ عدم اعتماد میں کمی لانے کیلئے کچھ نہیں کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات ماضی میں کیے گئے وعدوں اور عہد کی خلاف ورزیوں کی یاد تازہ کرنے کا سبب بنیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا اشارہ امریکی حکام کے کن مخصوص بیانات کی جانب تھا۔

     

  • WED JUN 24 2026 | 08:26 PM

    ایران امریکا معاہدہ دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے، امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین

    چین خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے
    ایران امریکا معاہدہ دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے، امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین

    بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام قرار دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والا معاہدہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو مل کر معاہدے کے تحفظ، مؤثر نفاذ اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

    ترجمان نے کہا کہ ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور قومی مفادات کے احترام کا عہد کیا ہے۔ جو باہمی اعتماد اور تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور تعمیری بات چیت پر یقین رکھتا ہے۔ اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی ہر مثبت کوشش کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ بیجنگ خلیجی اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ایرانی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اور خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں واپس نہ بلانے کا اعلان

    چین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، علاقائی ہم آہنگی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر تعاون جاری رکھے گا۔

  • WED JUN 24 2026 | 07:15 PM

    اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں واپس نہ بلانے کا اعلان

    ماضی جیسی سیکیورٹی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی، اسرائیلی وزیر دفاع
    اسرائیل کا جنوبی لبنان سے فوجیں واپس نہ بلانے کا اعلان

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائے گا۔ چاہے اس حوالے سے امریکا کی جانب سے کوئی مطالبہ ہی کیوں نہ کیا جائے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی اور ماضی جیسی سیکیورٹی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ ماضی میں سیکیورٹی زونز میں سڑک کنارے بم دھماکوں اور اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اسرائیل ایسے خطرات کو دوبارہ جنم لینے کی اجازت نہیں دے گا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تقریباً 2 لاکھ افراد تاحال اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان کی صورتحال، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور جنگ بندی کی کوششوں پر بین الاقوامی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔ اسرائیل کے اس مؤقف سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

  • WED JUN 24 2026 | 05:12 PM

    امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ

    آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے
    امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی، ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی۔ اور نہ ہی منجمد فنڈز سے کوئی رقم جاری کی گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے حوالے سے مالی معاملات سے متعلق گردش کرنے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں اور امریکی حکومت نے ایران کو کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کو کوئی رقم نہیں دی گئی اور نہ ہی ایران کے منجمد فنڈز میں سے کوئی رقم جاری کی گئی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکا کو آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹول عائد نہیں کیا جا رہا۔

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس کے حوالے سے ایران کی جانب سے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: قطر نے آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی مخالفت کر دی

    امریکی صدر نے کہا کہ خطے کی صورتحال اور ایران کے ساتھ مختلف معاملات پر رابطے جاری ہیں۔ جبکہ عالمی بحری تجارت کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پیش رفت کی جا رہی ہے۔

  • WED JUN 24 2026 | 02:54 PM

    قطر نے آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی مخالفت کر دی

    بعض عناصر کسی بھی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں
    قطر نے آبنائے ہرمز پر ایرانی فیس منصوبے کی مخالفت کر دی

    دوحہ: قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے کسی بھی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہاٹ لائن کا قیام انتہائی اہم ہے۔ اس رابطے کا مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بعض عناصر کسی بھی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس لیے جہازوں کو موصول ہونے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق ضروری ہونی چاہیے۔

    شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس وصول کرنے کا کوئی مجوزہ ماڈل پیش کرتا ہے تو اسے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دینا ہوں گے۔ جبکہ قطر اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قطر اس منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا تک قطر کی رسائی کے واحد اہم بحری راستے پر کسی دوسرے ملک کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ امید ہے آئندہ 30 روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔

    یہ بھی پڑھیں: ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری

    قطری وزیر اعظم نے کہا کہ قطر چند ہفتوں میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم یہ عمل آبنائے ہرمز میں حالات کے مکمل طور پر معمول پر آنے سے مشروط ہوگا۔

  • WED JUN 24 2026 | 08:47 AM

    آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے ، کوئی ملک ٹول یا فیس وصول نہیں کر سکتا ، امریکی وزیر خارجہ

    عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، ایران کیساتھ بات چیت میں یہ معاملہ زیر بحث آئے گا ، مارکو روبیو
    آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے ، کوئی ملک ٹول یا فیس وصول نہیں کر سکتا ، امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ابوظہبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خطے کے سب ممالک کا اس پر اتفاق ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کے حمایت یافتہ گروہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اس وقت تک تنازع کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

    ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے، ٹرمپ کی دھمکی

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران انقلابی تحریک کے بجائے عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں۔ خطے میں جب تک ایرانی پراکسیز حملے کریں گے کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی۔

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عراق میں بھی حماس، حزب اللہ جیسے گروہ دہشتگردی میں ملوث ہیں، امریکا ایران بات چیت میں یہ موضوع بھی جلد زیر بحث آئے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات سے خلیجی دورے کا آغاز کیا، اس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے۔

    پاکستان نے ہر مرحلے پر مخلصانہ اور انتھک کوششیں کیں، ایرانی صدر

    امریکی میڈیا کے مطابق خلیجی ممالک کو امریکا کی جانب سے سکیورٹی کی یقین دہانیاں دینے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ عمان اور ایران نے منگل کے روز ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا تھا کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیس کا جائزہ لیں گے۔

     

     

  • TUE JUN 23 2026 | 11:09 PM

    ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی، رائٹرز پول

    ایران جنگ کے بعد امریکا کمزور ہوا ،35 فیصد امریکی شہریوں کی رائے
    ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی، رائٹرز پول

    امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی عوام کی رائے میں واضح تقسیم سامنے آگئی ہے۔

    رائٹرز کے تازہ سروے کے مطابق ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکا پہلے کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے، جبکہ نسبتاً کم افراد اسے امریکی طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے، ٹرمپ کی دھمکی

    پول کے نتائج کے مطابق 35 فیصد امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور کشیدگی کے بعد امریکا کی عالمی حیثیت اور طاقت متاثر ہوئی ہے اور ملک پہلے کے مقابلے میں کمزور نظر آ رہا ہے۔ اس کے برعکس صرف 23 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ اس تنازع کے بعد امریکا ایران کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں آیا ہے۔

    سروے میں جنگ کے مالی اور سیاسی اثرات سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔ نتائج کے مطابق 52 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم اور اس پر آنے والے اخراجات حاصل ہونے والے نتائج کے مقابلے میں مناسب نہیں تھے۔ ان شہریوں کا مؤقف ہے کہ جنگ پر خرچ ہونے والے وسائل کو داخلی مسائل، معیشت، صحت اور دیگر عوامی شعبوں پر صرف کیا جانا چاہیے تھا۔

    معاہدہ نہ ہونے پر آبنائے ہرمز میں ٹول عائد کر سکتے ہیں ، ٹرمپ

    دوسری جانب 24 فیصد شرکا نے جنگی کارروائیوں کو فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی مفادات کے تحفظ اور خطے میں امریکا کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ تاہم باقی شرکا نے اس معاملے پر غیر جانبدار رائے دی یا کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

    رائٹرز پول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی دوسری صدارتی مدت کی کم ترین سطح کے برابر ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خارجہ پالیسی، جنگی اخراجات اور اندرونی معاشی چیلنجز عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

    اٹلی کی وزیر اعظم کا ٹرمپ کو اپنی مقبولیت پر توجہ دینے کا مشورہ

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سروے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد طویل فوجی تنازعات اور بیرون ملک مداخلت کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات امریکی سیاست اور آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • TUE JUN 23 2026 | 08:25 PM

    ایران کا فضائی حدود کھولنے کا اعلان

    فضائی سلامتی اور سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، ایران
    ایران کا فضائی حدود کھولنے کا اعلان

    تہران: ایران نے ملک کے مغربی حصے کی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی کا عمل شروع ہو گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مغربی ایران کی فضائی حدود اب پروازوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ اور متعلقہ اداروں کو ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    فضائی حدود کی بحالی سے بین الاقوامی اور علاقائی فضائی ٹریفک کو سہولت ملے گی، جبکہ متعدد ایئرلائنز بھی اپنی پروازوں کے شیڈول کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فضائی سلامتی اور سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں فضائی حدود سے متعلق فیصلے حالات کے مطابق کیے جائیں گے۔

    فضائی حدود کی بندش کے دوران متعدد بین الاقوامی پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا تھا، جس سے پروازوں کے دورانیے اور لاگت میں اضافہ دیکھا گیا۔ اب مغربی فضائی حدود کھلنے کے بعد ایئرلائنز اپنی فلائٹ شیڈولنگ پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری

    ماہرین کے مطابق ایران کی مغربی فضائی حدود کھلنے سے خطے میں فضائی آمدورفت کے دباؤ میں کمی آئے گی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے متبادل راستوں کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔

WhatsApp