عراق میں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بغیر پائلٹ طیارے کے حملے میں اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب موجود امریکی سفارتی مرکز پر بھی راکٹ اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، تاہم عراقی پولیس کے مطابق ان حملوں کو فضا میں ہی روک دیا گیا۔
یہ اڈہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ میزائل اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ یکم مارچ کو بھی اسی مقام پر حملہ ہوا تھا جس کی ذمہ داری ایران کے حمایت یافتہ گروہ پاسداران انقلاب نے قبول کی تھی۔
حملے کے بعد اربیل ہوائی اڈے پر فوجی تنصیبات والے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود 27 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بیان کے مطابق ایران نے تل ابیب میں واقع ایک بڑے دفاعی صنعتی مرکز کو بھی ہدف بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب بحرین میں اتوار کی صبح سائرن بجنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
