سعودی عرب نے رواں سال کی امدادی گرانٹ کی نئی قسط کے طور پر فلسطین کو 9 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کر دی ہے۔
یہ رقم اردن کے دارالحکومت عمان میں سعودی سفارتخانے میں منعقدہ ایک ملاقات کے دوران فلسطینی وزیرِ منصوبہ بندی و قائم مقام وزیرِ خزانہ اسطفان سلامہ کو دی گئی۔
ملاقات میں سعودی عرب کے اردن میں سفیر اور فلسطین کیلئے غیر مقیم نمائندے شہزادہ منصور بن خالد بن فرحان آل سعود بھی موجود تھے۔
وزیر اسطفان سلامہ نے سعودی عرب کی مسلسل مالی و سیاسی حمایت کو سراہا اور کہا کہ یہ امداد اسرائیلی پالیسیوں کے باعث شدید مالی بحران کا شکار فلسطینی اتھارٹی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت کی تاریخی حمایت نے ہمیشہ فلسطینی عوام کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
سلامہ نے صدر محمود عباس اور وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ کی جانب سے سعودی قیادت خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے شکریہ کا پیغام بھی پہنچایا۔
سعودی سفیر منصور بن خالد نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مدد اور ان کے جائز حقوق کی حمایت سعودی عرب کا مستقل اور تاریخی مؤقف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نیویارک میں فلسطینی ریاست کے لیے ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس میں سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد فلسطینی ریاست کی عالمی سطح پر مزید حمایت بڑھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مالی امداد فلسطینی حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں مدد دے گی اور فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرے گی، خاص طور پر صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں۔
