پاکستان نے ڈیجیٹل ترقی میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کے تیز ترین زیرِ سمندر کیبل سسٹمز میں شمار ہونے والے ایس ای اے–ایم ای–ڈبلیو ای 6 سے باقاعدہ طور پر کنکشن حاصل کر لیا ہے۔
یہ ایک سال کے اندر ملک کا تیسرا بین الاقوامی کیبل سسٹم ہے، جس کی تصدیق وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شازا فاطمہ نے کرتے ہوئے اسے عالمی کنیکٹیویٹی مضبوط بنانے اور قومی انٹرنیٹ کی صلاحیت بڑھانے کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
یہ نیا سسٹم افریقہ-1 اور 2افریقہ کیبلز کے بعد فعال ہوا ہے، جس سے پاکستان کے سب میرین انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع جاری ہے۔ لینڈنگ پارٹنر ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (TWA) ابتدائی طور پر 4 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ کی اضافی صلاحیت شامل کرے گا، جس سے ملک کی موجودہ 13.2 ٹیرا بٹ بینڈوڈتھ میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوگا۔
21 ہزار 700 کلومیٹر طویل ایس ایم ڈبلیو 6 پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک مختلف ممالک سے جوڑتا ہے۔ یہ دنیا کے جدید ترین اور بلند صلاحیت کے حامل نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، جس کی ڈیزائنڈ صلاحیت 132 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ ہے اور اس میں 10 فائبر پیئرز شامل ہیں۔
یہ نظام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، بین الاقوامی کاروبار اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اسی ترقی کے ساتھ TWA کراچی میں ٹئیر تھری سرٹیفائیڈ ڈیٹا سینٹر بھی تعمیر کر رہا ہے جو براہ راست ایس ایم ڈبلیو 6، ایس ایم ڈبلیو 5، ٹی ڈبلیو 1 اور 2افریقہ سمیت بڑے سب میرین سسٹمز سے منسلک ہوگا۔
یہ پاکستان کا پہلا ڈیٹا سینٹر ہوگا جو اے آئی ورک لوڈز کے لیے ہائی ڈینسٹی ریکس کو سپورٹ کرے گا اور ملکی و غیر ملکی اداروں کے لیے محفوظ اور توسیع پذیر ہوسٹنگ فراہم کرے گا۔
ڈیٹا سینٹر جنوری 2026 میں کام شروع کرے گا، جو پاکستان اور بیرون ملک کاروباری اداروں کو کلاؤڈ انفراسٹرکچر، انٹرپرائز نیٹ ورکس اور کنٹینٹ ڈلیوری سروسز میں مضبوط معاونت فراہم کرے گا۔
