اسلام آباد: پاکستان کی تاجر برادری نے حکومت کے نئے اضافی بجلی استعمال پیکج کی سخت مخالفت کر دی۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت کا انعقاد کیا۔ سماعت میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما)، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
تاجروں نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی 22.98 فی یونٹ دینے کے منصوبے کو چیلنج کر دیا۔ اور کہا کہ یہ اسکیم امتیازی، زیادہ پیچیدہ اور بغیر مشاورت کے تیار کی گئی ہے۔
صنعتکاروں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر یہ نیا بجلی کا نرخ اسی طرح نافذ ہوا تو صنعتی ترقی متاثر ہو گی۔ جو فیکٹریوں کی بندش کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے تجویز دی کہ بجلی کی قیمت تمام سیکٹرز کے لیے یکساں اور منصفانہ بنائی جائے۔ جس کے لیے نرخ 9 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ مقرر کیا جائے۔ اور لوڈ فیکٹر 60 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کا بتدریج آڈٹ کا فیصلہ
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ تجویز شدہ نرخ ملک کی حقیقی معاشی اور توانائی کی صورتحال کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جہاں مہنگی توانائی، کم صنعتی طلب اور سولر انرجی کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے عوامل پہلے ہی کاروباری لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
