صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ای چالان کے نظام کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کی دو بڑی کاروباری شخصیات نے بھی ای چالان سسٹم کو قانون کی عملداری کی جانب مثبت قدم قرار دیا ہے۔
ای چالان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے انسانی جانیں جاتی ہیں، اس نظام کا مقصد ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانا ہے، حکومت کسی سے نہیں ڈرتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل فیصلے ہمیشہ تکلیف دہ ہوتے ہیں، مگر ان کا مقصد عوام کی بہتری اور نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ حکومت کو چالان کی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہ کرنا پڑے، کیونکہ اصل مقصد عوام کو قانون کی پابندی کا عادی بنانا ہے۔
کسانوں کی براہ راست امداد
اس کے علاوہ صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبے بھر کے کسانوں کی بھرپور مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کسانوں کے لیے براہِ راست نقد امداد فراہم کرے گی تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی خودکفالت کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق پروگرام کے تحت کسانوں کو ڈی اے پی کھاد کی خریداری کے لیے فی ایکڑ 14 ہزار روپے کی پہلی قسط دی جائے گی۔ اس کے بعد گندم کی بوائی کے 2 سے 3 ہفتے بعد تصدیقی عمل مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جن کسانوں کی گندم کی کاشت کی تصدیق ہو جائے گی، انہیں مزید فی ایکڑ 8 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ دو بوری یوریا کھاد خرید سکیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے کسانوں کی معاشی بحالی، زرعی استحکام اور غذائی خودکفالت کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔
شرجیل میمن نے انکشاف کیا کہ اب تک 4 لاکھ 19 ہزار کسانوں کو امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور یہ رقم “ہاری کارڈ” کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ ہاری کارڈ کے لیے اب تک ساڑھے 3 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 80 ہزار درخواستوں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔
