معروف بھارتی صحافی اور واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار رعنا ایوب اور ان کے والد کو نامعلوم نمبر سے قتل اور حملے کی سنگین دھمکیاں موصول ہوئیں ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صحافی اور ان کے اہلِ خانہ کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
کمیٹی کے بھارت میں نمائندے کُنل ماجمدار نے کہا کہ “رعنا ایوب اور ان کے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ حکام کو چاہیے کہ فوری طور پر ان افراد کی شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ ملک کے صحافی خوف اور دھمکی کے بغیر اپنا کام کر سکیں۔”
Thread: On the night of the 2nd of November, I received a phone call from a Canadian number threatening to kill me and my father if i did not publish an op-ed in the Washington post glorifying the assassination of Indra Gandhi. The display picture was that of Lawrence Bishnoi pic.twitter.com/UAJPdjLfCK
— Rana Ayyub (@RanaAyyub) November 4, 2025
رعنا ایوب نے 3 نومبر کو پولیس کو دی گئی شکایت میں کہا کہ انہیں 2 نومبر کی شام تقریباً 20 منٹ کے دوران ایک غیر ملکی نمبر سے متعدد ویڈیو کالز، فون کالز، اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے۔
کالر نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات پر ایک مضمون لکھیں، وہ فسادات جن میں اُس وقت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد تقریباً 3,000 سکھ مارے گئے تھے۔
شکایت کے مطابق کالر نے رعنا ایوب کا گھر کا پتہ درست طور پر بتایا اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے مضمون نہ لکھا تو ان کے گھر پر حملہ کیا جائے گا اور ان کے والد کو قتل کر دیا جائے گا۔
رعنا ایوب نے پولیس کو بتایا کہ کالر کی واٹس ایپ پروفائل تصویر مشہور بھارتی گینگسٹر لارنس بشنوئی کی تصویر سے مشابہ تھی، جو اس وقت ریاست گجرات کی جیل میں قید ہے۔
پولیس کے مطابق دھمکیوں کے بعد رعنا ایوب کی رہائش گاہ پر سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ رعنا ایوب کو اس نوعیت کی دھمکیاں ملی ہوں۔ ان کا ذاتی نمبر گزشتہ سال آن لائن لیک ہو گیا تھا، جس کے بعد انہیں آن لائن ٹرولنگ، سرکاری دباؤ، تفتیش، اور ریپ و قتل کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سی پی جے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز مہمات آزادیٔ اظہار کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اور حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
