برآمدات میں اضافے کیلئے ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کریں گے، وزیر اعظم


اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے کے لیے ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کریں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت معاشی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کو واضح اہداف دے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ موجودہ پروگرام پورا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کریں گے اور انہیں تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ موجودہ حکومت کو تباہ حال اور بدحال معیشت ملی تھی جسے ہم نے استحکام دیا جبکہ بیرون ملک پاکستانی بینکنگ چینلز سے رقوم وطن کو ارسال کریں۔

شہباز شریف نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں پوری توجہ اور تندہی کے ساتھ اصلاحات پر عمل کیا جائے جبکہ گردشی قرض میں کمی اولین ترجیح ہے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہمیں گردشی قرض سے بھی نمٹنا ہے۔ ہمیں توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار اور اضافے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگے درآمدی ایندھن کی وجہ سے عام عوام پر بوجھ پڑتا ہے اور توانائی کی بچت، عمومی رویوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی مہم شروع کی جائے کیونکہ عوام کو آگاہ کرنا ہے کہ توانائی کی بچت کرنا اس وقت قومی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 17 دسمبر کو اسمبلیاں توڑنے کی تاریخ کا اعلان کر دوں گا، عمران خان

وزیر اعظم نے کہا کہ 2018 میں جی ڈی پی کی شرح 6.1 فیصد تھی لیکن سابقہ حکومت کی بدترین گورننس اور بدانتظامی نے معیشت کو جمود کا شکار کیا۔ 2018 میں قرضہ 25 ٹریلین روپے تھا لیکن مارچ 2022 تک قرضہ 44.5 ٹریلین تک پہنچ گیا۔ معاشی اشاریے موجودہ حکومت کو انتہائی بری حالت میں ملے تاہم موجودہ حکومت نے انتہائی مشکل حالات میں صورتحال کو سنبھالا دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی معاشی بحالی کے عمل کو دھچکا لگا تاہم حکومت نے 3 کروڑ 30 لاکھ پاکستانیوں کی مدد میں معاشی مشکلات کو حائل نہیں ہونے دیا۔ ملک کو بتدریج معاشی مشکلات کے بھنور سے نکالا جائے گا۔ توانائی کی بچت کی جائے اور کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے اخراجات پر قابو پایا جائے۔


متعلقہ خبریں