قومی اسمبلی کا اجلاس: مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں، ڈپٹی اسپیکر


قائم مقام اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ میری رولنگ کو غیر آئینی قراردیا گیا، غیر ملکی مراسلہ زیر بحث لایا گیا اور اس کو سازش قرار دیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے مراسلے کوایوان میں لہرایا، انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یہ قصور تھا کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی، کیا یہ ملک غلامی کرنے کے لیے بنایا گیا تھا؟ قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر کے اظہار خیال کے دوران خواجہ آصف بات کرنے کے لیے کھڑے ہوئے لیکن شہباز شریف نے خواجہ آصف کو بات کرنے روک دیا۔

مراسلہ ڈی کلاسیفائڈ کرنے کی اجازت وفاقی کابینہ نے دی، میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتاہوں۔ جس کے بعد انہوں نے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو اجلاس میں اظہار خیال کی اجازت دی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم مستعفی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ وزیراعظم کے انتخاب کا حصہ بنوں، اور اٹھ کر چلے گئے۔

جس کے بعد ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس کی صدارت سنبھال لی۔


متعلقہ خبریں