پونے دو ارب کا رمضان پیکج، مگر اشیائے ضروریہ نایاب


لاہور: رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت میں روزمرہ استعمال کی اشیا نایاب ہوگئی ہیں جبکہ شہریوں نے سستے رمضان بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے معیار پربھی عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیا کے ریٹ تو کم ہیں مگرسال بھرمیں صرف ایک مہینےکا ریلیف سمجھ  سے بالاتر ہے۔ بہت سے لاہوریوں نے شکایت کی ہے کہ اگر کسی کو دو کلو کی پیکنگ کا سامان چاہیے تو وہ موجود نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر کسی نے پانچ کلو کا سامان اکٹھا تو نہیں خریدنا ہوتا۔

حکومت پنجاب نے دعویٰ کیا تھا کہ رمضان پیکج میں عوام کو پونے دو ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے لیکن یوٹیلٹی اسٹورزپربنیادی ضرورت کی اکثراشیا کے غائب ہونے کی وجہ سے اس کی افادیت محدود ہو گئی ہے۔

گزشتہ رمضان المبارک میں یوٹیلٹی اسٹورز پر رمضان پیکج کے تحت ایک ارب 60 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی تھی جبکہ اس سال اس کا حجم 13 کروڑ روپے اضافے سے ایک ارب 73 کروڑ روپے کر دیا گیا تاہم بد انتظامی اور اشیائے ضروریہ کی کمیابی کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔


متعلقہ خبریں