جس دن سے ہماری پارلیمنٹ شروع ہوئی ہے، اپوزیشن بولنے ہی نہیں دیتی، عمران خان

موجودہ حکومت میں نیب کی کارکردگی بہترین رہی، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس دن سے ہماری پارلیمنٹ شروع ہوئی ہے، اپوزیشن ہمیں بولنے ہی نہیں دیتی۔

ہم نیوز نیٹ ورک کے لیے حمزہ علی عباسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں، یونیورسٹی سے دیکھ رہا تھا، اس کی پارلیمنٹ کیوں چلتی ہے اور ہماری نہیں چل رہی۔ برطانیہ کی پارلیمان میں لوگ تیاری کرکے آتے ہیں، یہاں پر تیاری نہیں کرکے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بریگزٹ پر یہ کسی کا ذاتی ایشو تو نہیں تھا بریگزٹ میں یہ  تھا کہ یورپ میں رہنا ہے یا نہیں، اس پر ڈیبٹس چلیں، لوگ چیزیں لیکر آئے، تین سال تک پارلیمنٹ میں بحث چلی، ہمارا کیا ہورہا ہے؟

مزید پڑھیں: کرپشن کے مہاراجوں کا خراب معیشت کا بیانیہ دفن ہوگیا، شہباز گل

عمران خان نے کہا کہ جس دن سے ہماری پارلیمنٹ شروع ہوئی ہے، اپوزیشن ہمیں بولنے ہی نہیں دیتی، کیوں نہیں بولنے دیتی، ان کو کوئی دلچپسی نہیں کہ ملک کے کیا ایشوز ہیں، صرف ایک ایشو ہے کہ عمران خان ان کو این آر او دے دے۔

انہوں نے کہا کہ جو انہوں نے چوری کی، اس سے بچا لے، کتنا ملک کا فائدہ ہوسکتا ہے کہ اگر ارکان پارلیمنٹ تیاری کرکے آئیں، اتفاق رائے پیدا کریں کویڈ19 پر پالیسی پر ڈبیٹ کریں، خارجہ پالیسی پر بات کریں، بحث سے تھاٹ پراسس آگے جاتا ہے، ہماری حکومت کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وقفہ سوال میں ایک گھنٹے تک جواب دوں گا، جو مرضی سوال کریں، وہ کیوں نہیں ہوسکتا،؟ آپ جو مرضی کرلیں وہ آجاتے ہیں این آر او پر، وہ آجاتے ہیں کہ پہلے ہمارے کرپشن کے کیسز معاف کرو تو آگے بات ہوگی، وہ پارلیمنٹ کیسے چل سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جب تک ایک معاشرہ چوروں اور عام لوگوں میں فرق نہیں کرے گا، جو قرآن مجید کہتا ہے، یہ برابر نہیں ہیں، آپ ان کو برابر کردیتے ہیں، وہ ہر روز ایک شخص ٹاک شو پر بیٹھا ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آپ 30 سال سے اقتدار میں ہیں، آپ اپنا جواب دیں، آپ نے جو پیسے بنائے ہیں اس کے بارے میں بتائیں، اگر میں بطور کرکٹر جو پبلک آفس ہولڈ نہیں کرتا تھا، عدالت نے آٹھ نو ماہ پوچھا کہ آپ کے پاس کدھر سے پیسا آیا ہے، لندن میں فلیٹ کیسے لیا؟، پھر اس کی منی ٹریل دیں۔

انہوں نے کہا کہ میں تو کرکٹ کھیلتا تھا، میرے پاس چوری کا پیسہ آنہیں سکتا، میں کوئی منسٹر نہیں تھا، کوئی ایم این اے نہیں تھا، اس کے باوجود میں نے آٹھ مہینے جواب دیا، منی ٹریل دی، پیسوں کی تفصیل دی، بینک کی اسٹیمنٹ دی، ٹرانفسر ہونے والے پیسوں کی تفصیل بتائی، کیسے پاکستان پیسے آئے، یہ سب بتایا، ان کے پاس اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں، بنیں کب؟ جب یہ وزیراعظم تھے، ابھی تک یہ ایک ڈاکومنٹ نہیں دے سکے، کہ پیسہ آیا کدھر سے ہے۔


متعلقہ خبریں