پشاور جلسے کیلئے پی ڈی ایم کی ضلعی انتظامیہ سے درخواست

فوٹو: فائل


پشاور: اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم ) نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جلسے  کے لیے ضلعی انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پشاور میں پی ڈی ایم جلسے کی این او سی کے لیے درخواست پانچ جماعتوں کے جنرل سیکرٹریز پر مشتمل انتظامی کمیٹی نے جمع کرائی ہے۔

پی ڈی ایم نے ایک اور درخواست میں چیف کییٹل سٹی پولیس پشاور سے سکیورٹی انتظامات کی استدعا بھی کی ہے۔

پی ڈی ایم کا جلسہ 22 نومبر کو صبح 10 بجے پشاور کبوتر چوک رنگ روڈ پر منعقد ہوگا۔

ذرائع کے مطابق جلسہ کی میزبانی پر عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف کے درمیان اختلاف کے باعث قائدین نے مشترکہ طور پر میزبانی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لئے پانچ جماعتوں کے جنرل سیکرٹریز پر مشتمل انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالنے والے ناکام ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے انٹرویو کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمہوریت اور سول بالادستی کے لیے پیپلز پارٹی کی تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول بالادستی کی جدوجہد میں ہم نے اپنے دو عظیم لیڈرز اور ہزاروں جیالے کھو دیے ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جنم بھی پیپلز پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے مشترکہ اعلامیہ سے ہوا اور بلاول بھٹو کا بیانیہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالنے والے ناکام ہوں گے اور پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے متفقہ ایجنڈے کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شریف فیملی منی لانڈرنگ، وعدہ معاف گواہ کا بیان سامنے آ گیا

نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بلاول بھٹو کی نواز شریف سے ملاقات نہ ہو سکی جبکہ بلاول بھٹو نواز شریف سے مل کر ان تمام موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔


متعلقہ خبریں